ریاستوں کی ترقی سے ہی ملک کی ترقی ممکن ‘ مرکز تلنگانہ سے ہر ممکن تعاون کیلئے تیار

,

   

مختلف ترقیاتی پراجیکٹس کا سنگ بنیاد ۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کا خطاب

حیدرآباد۔10۔مئی (سیاست نیوز) ملک کی ترقی اسی صورت میں ممکن ہے جب ریاستوں کی ترقی ہوتی رہے۔ مرکزی حکومت تلنگانہ سے ممکنہ تعاون کیلئے تیار ہے ۔ تلنگانہ میں انفراسٹرکچر کے فروغ اور تلنگانہ کو دوسری ریاستوں سے جوڑ کر ریاست کی معیشت کو مستحکم بنایا جاسکتا ہے۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے شہر میں مختلف پراجکٹس کے افتتاحی و سنگ بنیادتقاریب سے خطاب میں کہا کہ مرکز ’وکست بھارت‘ کے خواب کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے ۔ گورنر شیو پرتاپ شکلا‘ چیف منسٹر ریونت ریڈی ‘ مرکزی وزراء جی کشن ریڈی ‘ بنڈی سنجے و ریاستی وزراء و عہدیداران موجود تھے ۔ 9400 کروڑ کے ترقیاتی کاموں کے افتتاح کے بعد مودی نے کہا کہ جمہوری ملک میں مختلف ریاستوں میں مختلف جماعتوں کا اقتدار نئی بات نہیں بلکہ جمہوری اصولوں کے مطابق ہے لیکن ریاستوں سے مرکز کی اعانت کے ذریعہ ہی ملک کی مجموعی ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا میں جنگ کے دوران شہریوں کو احساس ہوا ہے کہ توانائی کتنی اہم ہے ہے لیکن کئی ملک برسوں قبل حکومت کے منصوبوں پر عمل کرکے شمسی توانائی کی پیداوار میں دنیا سے کافی آگے نکل چکا ہے ۔ انہوں نے ملک کی معیشت میں استحکام کو ملک کی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ ’وکست بھارت 2047‘ منصوبہ پر عمل کے یہ نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وزیر اعظم کی ستائش کی اور کہا کہ انہو ںنے جس طرح چیف منسٹر گجرات کے دور میں ’گجرات ماڈل‘ پیش کیا اسی طرح سے وہ تلنگانہ کی ترقی کے خواہاں ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ کو مرکزسے شفقت کی امید ہے اسی لئے ’وکست بھارت 2024‘ کے منصوبہ کے مطابق تلنگانہ نے ’دی رائزنگ تلنگانہ 2047‘ کا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ ریونت ریڈی کہا کہ تلنگانہ میں ترقیاتی کام دراصل ریاست کی مجموعی ترقی کے آئینہ دار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کے 6 شہر دہلی ‘ ممبئی ‘ کولکتہ ‘ چینائی ‘ بنگلورو اور حیدرآباد ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے اور ترقی دلانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔ ہندوستان کو دنیا میں نمبر ون بنانے ضروری ہے کہ ان شہروں کی مزید ترقی و نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے ‘ سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔ ۔ انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ وہ اپنے دفتر میں تلنگانہ کی ترقی کیلئے سنگل ونڈو سسٹم تیار کرکے ریاست کی ترقی کو یقینی بنانے درخواستوں کو ’سنگل ونڈو‘ کے ذریعہ منظور کریں۔3