ریاستی وزراء اور کانگریس ارکان اسمبلی میں بہتر تال میل کیلئے چیف منسٹر ریونت ریڈی کی ہدایت

   

اسکیمات پر عمل آوری میں شامل کرنے کا مشورہ، مجالس مقامی کے انتخابات سے قبل اختلافات ختم کرنے کی مساعی
حیدرآباد۔/2فروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ریاستی وزراء کو ہدایت دی ہے کہ وہ ارکان اسمبلی سے بہتر تال میل کے ذریعہ عوامی مسائل کی یکسوئی کو یقینی بنائیں۔ چیف منسٹر نے گذشتہ دو دن کے دوران کانگریس کے ارکان اسمبلی کے ایک گروپ کی جانب سے علحدہ اجلاس منعقد کرنے اور بعض وزراء کے انداز کارکردگی پر اعتراض کے ضمن میں وزراء کو طلب کرتے ہوئے ضروری ہدایات دی ہیں۔ واضح رہے کہ متحدہ محبوب نگر ضلع اور دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے تقریباً 12 ارکان اسمبلی نے علحدہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے عوامی مسائل کی یکسوئی میں بعض وزراء کے رویہ کے سبب رکاوٹ کی شکایت کی تھی۔ میڈیا میں ارکان اسمبلی کے اجلاس کی کافی تشہیر کی گئی اور اسے پارٹی میں ناراض سرگرمیوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے فوری حرکت میں آتے ہوئے ریاستی وزراء کو طلب کیا اور ارکان اسمبلی میں پائی جانے والی بے چینی سے واقف کرایا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی اور صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے اجلاس میں شرکت کرنے والے ارکان سے فون پر بات چیت کی اور حقیقی صورتحال جاننے کی کوشش کی۔ چیف منسٹر نے وزراء کو مشورہ دیا کہ وہ ضلع کے وزیر ہوں یا پھر کسی ضلع کے انچارج وزیر دونوں صورتوں میں مقامی ارکان اسمبلی سے بہتر تال میل کو یقینی بنائیں۔ ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں ارکان اسمبلی کو شامل کیا جائے تاکہ مقامی سطح پر کوئی ناراضگی پیدا نہ ہو۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے کنٹراکٹرس کو بلز کی ادائیگی میں کمیشن طلب کرنے کی شکایتوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ بی آر ایس کے وزراء کی جانب سے کمیشن کے حصول کے نتیجہ میں پارٹی اقتدار سے محروم ہوگئی تھی۔ اب جبکہ کانگریس حکومت کا ایک سال مکمل ہوا ہے، وزراء کی جانب سے اس طرح کی سرگرمیاں مناسب نہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مجالس مقامی اور پنچایت راج اداروں کے مجوزہ انتخابات میں کانگریس کی شاندار کامیابی کیلئے ریاستی وزراء کو متحرک ہونا چاہیئے۔ انہوں نے وزراء کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اپنے اضلاع کے پارٹی ارکان اسمبلی سے بات چیت کریں اور ان کی شکایات کی بروقت یکسوئی کی جائے۔ چیف منسٹر اور صدر پردیش کانگریس کو ارکان اسمبلی نے بعض وزراء کے منفی رویہ کی شکایت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ اندراماں ہاوزنگ، راشن کارڈز اور اندراماں آتمیا بھروسہ جیسی اسکیمات کے استفادہ کنندگان کے انتخاب کے معاملہ میں بعض وزراء نے ضلع کلکٹر اور دیگر عہدیداروں پر مکمل انحصار کیا جبکہ مقامی ارکان اسمبلی کو نظر انداز کردیا گیا۔ مہیش کمار گوڑ نے پارٹی میں ناراض سرگرمیوں کی تردید کی اور کہاکہ خیرسگالی ملاقات کے طور پر ارکان اسمبلی نے ڈنر پر بات چیت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے آبائی ضلع محبوب نگر سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کو عنقریب چیف منسٹر بات چیت کیلئے مدعو کریں گے۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے ارکان نے معمول کی ملاقات قرار دیا اور کسی طرح کی ناراض سرگرمیوں کی تردید کی ہے۔ مجالس مقامی کے انتخابات سے قبل چیف منسٹر ریونت ریڈی پارٹی میں پھیلی بے چینی دور کرنے پر توجہ مرکوز کرچکے ہیں۔ جن ارکان نے ڈنر ملاقات میں شرکت کی ان کا تعلق نظام آباد، جڑچرلہ، محبوب نگر، نریکل، نارائن کھیڑ، نرسم پیٹ، محبوب آباد، ونپرتی، آلیر اور دیگر حلقہ جات سے بتایا جاتا ہے۔1