90 سے زائد نمائندگیاں وصول، غریبوں اور کمزور طبقات کی بھلائی میں کانگریس سنجیدہ
حیدرآباد ۔ 2 ۔ جولائی (سیاست نیوز) وزیر اینمل ہسبنڈری وی سری ہری نے آج کانگریس ہیڈکوارٹر گاندھی بھون میں عوام سے ملاقات پروگرام میں شرکت کی اور عوامی مسائل کی سماعت کی۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے ہر ہفتہ ایک ریاستی وزیر کو گاندھی بھون میں عوامی مسائل کی سماعت کی ذمہ داری دی ہے ۔ وزارت میں شمولیت کے بعد پہلی مرتبہ وی سری ہری گاندھی بھون میں عوام سے ملاقات پروگرام میں شریک ہوئے اور نمائندگیوں کو وصول کیا۔ انہوں نے مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں سے ٹیلیفون پر ربط قائم کرتے ہوئے مسائل کے حل کی ہدایت دی۔ ریاستی وزیر نے بتایا کہ دیگر نمائندگیوں کو یکسوئی کیلئے متعلقہ محکمہ جات سے رجوع کیا جائے گا۔ بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وی سری ہری نے کہا کہ کانگریس اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں ، ہمیشہ عوامی مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کی ہے۔ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ غریب اور کمزور طبقات کی بھلائی کیلئے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ کی ہدایت پر ہر چہارشنبہ کو ایک وزیر گاندھی بھون میں عوام سے ملاقات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر مسائل کی بروقت یکسوئی عمل میں آرہی ہے ، آج تقریباً 90 درخواستیں وصول کی گئیں جو زیادہ تر سرکاری اسکیمات سے متعلق تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک عام آدمی کو راست طور پر ریاستی وزیر سے ملاقات کا کانگریس نے موقع فراہم کیا ہے ۔ ریاستی وزیر نے بنکا چرلا پراجکٹ پر حکومت کے خلاف بی آر ایس قائد ہریش راؤ کی مہم کی مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے آبی مفادات پر سمجھوتہ کرنے والے بی آر ایس قائدین آج خود کو تلنگانہ کے ہمدرد کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت کی مساعی پر مرکز نے بنکاچرلا پراجکٹ کی رپورٹ کو واپس کردیا ہے۔ وی سری ہری نے کہا کہ پسماندہ طبقات کی بھلائی صرف کانگریس پارٹی سے ممکن ہے۔ کانگریس نے بی سی قائد کو پی سی سی کا صدر مقرر کیا ہے جبکہ بی جے پی نے صدر کے انتخاب میں بی سی طبقات کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے ۔ سابق میں بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے بنڈی سنجے کو ہٹاکر کشن ریڈی کو صدر مقرر کیا گیا تھا۔ بی سی طبقات کیلئے رکن کونسل کویتا کی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستی وزیر نے بی آر ایس کو چیلنج کیا کہ وہ صدر یا ورکنگ پریسیڈنٹ کے عہدہ پر بی سی قائد کو مقرر کریں۔ انہوں نے کہا کہ طبقاتی سروے کے ذریعہ ریاست میں بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات فراہم کئے جارہے ہیں۔1