ڈاکٹر سوندار راجن پڈوچیری کے دورہ پر ‘کمیشن میں بے قاعدگیوں کا پتہ چلانے کا عزم
حیدرآباد 12 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) ریاستی گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کے صدر نشین کے عہدہ سے مسٹر جناردھن ریڈی کا استعفی قبول نہیں کیا ہے ۔ کچھ گوشوں سے کل ہی استعفی قبول کرلئے جانے کی اطلاع تھی تاہم کچھ گوشوں نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ ان کا استعفی مسترد کردیا گیا ہے ۔ راج بھون کے ذرائع کے بموجب گورنر نے ابھی تک اس استعفے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ واضح رہے کہ مسٹر جناردھن ریڈی نے تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کے عہدہ سے کل استعفی پیش کردیا تھا ۔ اس سے قبل انہوں نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے ملاقات کرکے تفصیلات سے واقف کروایا تھا اور پھر اپنا مکتوب استعفی گورنر کے سپرد کردیا گیا تھا ۔ حالانکہ یہ کہا گیا تھا کہ جناردھن ریڈی کا استعفی قبول کرلیا گیا ہے تاہم راج بھون کے ذرائع نے آج واضح کیا کہ گورنر نے ابھی تک استعفی منظور نہیں کیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ گورنر فی الحال پڈوچیری گئی ہوئی ہیں۔ وہ پڈوچیری کی لیفٹننٹ گورنر کے عہدہ کی بھی ذمہ داری سنبھالی ہوئی ہیں۔ راج بھون کے عہدیداروں نے بتایا کہ جناردھن ریڈی کا استعفی گورنر کو روانہ کردیا گیا ہے اور گورنر اس کا جائزہ لے رہی ہیں۔ تاحال انہوں نے اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔ سمجھا جا رہا ہے کہ چیف منسٹر یہ تسلی کئے بغیر استعفی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ پبلک سرویس کمیشن کے امتحانی پرچہ جات کے افشاء کیلئے کون ذمہ دار ہے ۔ گورنر چاہتی ہیں کہ کمیشن کے کام کاج میں بے قاعدگیوں کیلئے جو لوگ ذمہ دار ہیں ان کا پتہ چلایا جائے ۔ کہا جا رہا ہے کہ چونکہ ان بے قاعدگیوں اور پرچہ جات کے افشاء کے جو معاملات رہے ہیں ان کی تحقیقات مختلف مراحل میں ہیں ‘ ایسے میں اگر صدر نشین کا استعفی قبول کرلیا جاتا ہے تو حقیقی خاطیوں کو بچ نکلنے کا موقع مل سکتا ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی امکان ہے کہ ان سارے معاملات کا ایک اعلی سطح کے اجلاس میں جائزہ بھی لیں گے ۔ جناردھن ریڈی نے کل سیکریٹریٹ میں چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کی تھی اور انہیں پبلک سرویس کمیشن کی کارکردگی کی تفصیل سے واقف کروایا تھا ۔ بعد ازاں استعفی پیش کردیا تھا ۔