ہر سال 10 ہزار کیلو اور جاریہ سال اکٹوبر تک 15 ہزار کیلو گانجہ ضبط
حیدرآباد ۔ 16 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ میں گانجہ کے خلاف جاری خصوصی مہم میں ہزاروں کیلو گانجہ اور سینکڑوں افراد کی گرفتاریاں عمل میں آرہی ہیں ۔ ہر دن ریاست بالخصوص تینوں کمشنریٹ پر مشتمل گریٹر حیدرآباد میں کسی نہ کسی علاقہ میں گانجہ کو ضبط کیا جارہا ہے ۔ گذشتہ تین ماہ کے عرصہ سے اچانک ریاست بھر میں گانجہ کے خلاف مہم کا آغاز کیا گیا ۔ ریاست میں گانجہ کی منتقلی اور گانجہ کا چلن کوئی نئی بات نہیں رہی ۔ ہر سال محکمہ آبکاری کی جانب سے گانجہ بڑی تعداد میں ضبط کیا جاتا ہے ایک اندازے کے مطابق ہر سال 10 ہزار کیلو گانجہ پکڑا جاتا ہے جب کہ جاریہ سال 2021 میں اکٹوبر تک 15000 کیلو گانجہ ضبط کیا گیا اور 376 افراد کو گرفتار کرلیا گیا جب کہ گذشتہ سال 481 افراد گرفتار کیے گئے ۔ ریاست تلنگانہ کو گانجہ سے پاک کرنے کا ارادہ اور اس جانب اقدامات کو خوش آئند تصور کئے جاتے ہیں ۔ تاہم سماجی حلقوں میں یہ بات گشت کررہی ہے کہ آیا گانجہ ابھی تک کہاں تھا ۔ گانجہ کا اس طرح سماج پر اثر کر جانے تک ارباب مجاز نے اس جانب توجہ کیوں نہیں دی ۔ تاہم دیر سے ہی صحیح اقدامات کا تو آغاز ہوا ۔ گانجہ کی منتقلی اور گانجہ کے چلن کے خلاف محکمہ آبکاری کے علاوہ پہلے پولیس بھی اقدامات کرتی تھی تاہم اب پولیس کی کارروائی تیز ہوگئی ہے ۔ گانجہ کی تلاشی میں مصروف پولیس کے اقدامات سماج میں حیرت اور تشویش کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔ نوجوان نسل کو اس گانجہ کی لعنت سے چھٹکارا دلانے کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔ ذوق ، فیشن ، ذہنی تناؤ کو کم کرنے کام کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے بہانے نوجوان تعلیم یافتہ برسر کار آئی ٹی شعبہ سے وابستہ افراد بالخصوص طلبہ اس نشہ کا شکار ہوتے جارہے ہیں ۔ مزدور پیشہ ، ڈرائیورس طبقہ اور نشہ کے عادی افراد کے دائرے تک محدود گانجہ اب سماج کے ہر شعبہ میں سرائیت کر گیا ہے ۔ شہر میں موجودہ گانجہ کے ٹھکانے و بدنام زمانہ افراد ہی نہیں بلکہ ٹراویل ایجنٹس بھی اس کاروبار میں ملوث پائے گئے بلکہ شہر کے نواحی علاقوں کے وینچرس اور ویران مقامات کے علاوہ چند افراد کو گھروں میں پودوں کی جگہ گانجہ کی کاشت میں ملوث پایا گیا ۔ آر ٹی سی بسوں ، پرائیوٹ ٹراویل کے ذریعہ ایجنسی علاقوں سے گانجہ شہری علاقوں میں منتقل کیا جارہا ہے ۔ ریاست تلنگانہ کے حدود کو استعمال کرتے ہوئے پڑوسی ریاستوں تک گانجہ کی منتقلی کی جارہی ہے ۔ پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے جو مہم شروع کی گئی ہے اسے وقتی مہم تک محدود نہیں رکھا جانا چاہئے ۔ اس لعنت کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے منظم اقدامات اور خصوصی حکمت عملی ضروری ہے ۔ یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ اگر نفاذ قانون کی ایجنسیاں کسی لعنت یا جرم پر قابو پانے کا تہئیہ کرلیں تو پھر اس کا خاتمہ یقینی ہوجاتا ہے ۔ پولیس اور دیگر ایجنسیوں نے گانجہ وغیرہ کے خلاف اپنے اقدامات سے ثابت کردیا ہے کہ ان کی پکڑ بہت مضبوط ہے ۔ اس تاثر کو بدلنے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے ۔ اگر آئندہ دنوں میں دوبارہ یہ لعنتی کاروبار عروج پاتا ہے اور ایسا کرنے والے بچنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو اسے پولیس اور دیگر ایجنسیوں کی ڈھیل ہی کہا جائیگا ۔ ایسی ڈھیل سے تمام متعلقہ ایجنسیوں کو گریز کرنا چاہئے ۔۔ع
