ماہانہ صرف 20 تا 30 ہزار روپئے کی ملازمتیں، نرسوں سے بھی کم تنخواہیں
حیدرآباد ۔ 14 ڈسمبر (سیاست نیوز) ریاست میں ایم بی بی ایس بیروزگار ڈاکٹرس کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ماضی میں سرکاری ملازمتوں پر ڈاکٹرس کوئی توجہ نہیں دیتے تھے۔ اب حالات تبدیل ہوگئے ہیں۔ نوٹیفکیشن کا انتظار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک جائیداد کیلئے سینکڑوں درخواستیں وصول ہورہی ہیں۔ ڈاکٹرس کو روزگار نہ ملنے کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ پہلے ڈاکٹرس صبح سے شام تک مریضوں کا علاج کرنے میں مصروف رہا کرتے تھے۔ خانگی ہاسپٹلس اور کلینک کی پریکٹس کو زیادہ ترجیح دیا کرتے تھے۔ ریاست میں ایم بی بی ایس ڈاکٹرس کی تعداد میں ہر سال بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ دونوں تلگو ریاستوں میں فی الحال 1,32216 ڈاکٹرس ہیں۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد 32 ہزار ڈاکٹرس نے اسٹیٹ میڈیکل کونسل میں رجسٹریشن کرایا ہے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ہر ضلع میں ایک گورنمنٹ میڈیکل کالج قائم کرنے کے منصوبے سے کام کیا جارہا ہے۔ کانگریس حکومت تشکیل پانے کے بعد 8 گورنمنٹ میڈیکل کالجس قائم کئے گئے ۔ میڈیکل کونسل آف انڈیا نے دو یا تین خانگی میڈیکل کالجس کو منظوری دی ہے۔ جاریہ سال 12 جولائی کو مہدی نواز جنگ (ایم این جے) کینسر ہاسپٹل میں ڈاکٹرس کی جائیدادوں کیلئے میڈیکل ریکروٹمنٹ بورڈ نے نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں ایک اسسٹنٹ پروفیسرس (ڈینٹل سرجن) کی جائیداد کیلئے 134 درخواستیں وصول ہوئی۔ اس کے علاوہ 2 جولائی کو بورڈ نے 435 سیول اسسٹنٹ سرجنس (ایم بی بی ایس ڈاکٹرس) کی جائیدادوں کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا جس کیلئے 4850 درخواستیں وصول ہوئی۔ تازہ طور پر حیدرآباد کے چند بستی دواخانوں کیلئے 30 ایم بی بی ایس جائیدادوں کیلئے ڈی ایم ایچ او آفس نے نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کیلئے 350 درخواستیں وصول ہوئی۔ ریاست میں ایم بی بی ایس ڈاکٹرس کی تعداد میں جہاں اضافہ ہورہا ہے وہیں ملازمتوں کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں۔ ماہانہ 20 تا 30 ہزار روپئے کی ملازمتیں حاصل ہورہی ہیں۔ ان سے زیادہ نرسوں کو تنخواہ مل رہی ہے۔ تلنگانہ میں آئندہ چار سال بعد ہر سال 10 ہزار نئے ڈاکٹرس حاصل ہوں گے۔2