48 گھنٹوں میں 700 ملی میٹر کے قریب بارش ۔ حیدرآباد ۔ نظام آباد شاہراہ پر 20 کیلومیٹر تک ٹریفک جام
حیدرآباد 28 اگسٹ ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے اضلاع کاماریڈی ‘ میدک‘ کریم نگر ‘ راجنا سرسلہ اور سدی پیٹ میں بارش کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری رہا اور حکومت سے راحت کاری کاموں کو تیز کرنے اقدامات بھی جاری رہے۔ سرسلہ میں گذشتہ 36 گھنٹوں سے سیلاب میں پھنسے افراد کو مسلح افواج کے ہیلی کاپٹر کی مدد سے محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں کامیابی ملی ۔ ریاست کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کا آج چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وزیر آبپاشی کیپٹن این اتم کمار ریڈی اور صدرپردیش کانگریس مسٹر مہیش کمار گوڑ کے ہمراہ فضائی دورہ کیا جبکہ کارگذار صدر بھارت راشٹرسمیتی ٹی راما راؤ نے سرسلہ اور سابق وزیر ہریش راؤ نے سدی پیٹ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کادورہ کرکے متاثرین سے ملاقات کی اور ان کی دادرسی کی ۔ سرسلہ کا دورہ کرکے متاثرین سے ملاقات کرنے والوں میں مرکزی مملکتی وزیر داخلہ مسٹر بنڈی سنجے بھی شامل ہیں جبکہ کاماریڈی کا وزیر محترمہ سیتا اکا نے دورہ کرکے متاثرین سے ملاقات کی اور جن علاقوں میں سیلاب کا پانی داخل ہوا تھا ان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے عوام کو تیقن دیا کہ حکومت سے ان کی ممکنہ مدد کی جائے گی۔ ریاست کے جن اضلاع میں سیلاب کی صورتحال ہے ان میں گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 700 ملی میٹر کے قریب بارش کی اطلاعات ہیں جس کے نتیجہ میں تلنگانہ کے بیشتر ذخائر آب لبریز ہونے کے سبب کئی پراجکٹس بشمول حمایت ساگر و عثمان ساگر کے دروازوں کو کھولتے ہوئے پانی کا اخراج کیا گیا ۔ ذخائر آب میں جمع پانی کے خطرہ کے نشان سے اوپر پہنچنے کی صورت میں جو پانی خارج کیا جا رہاہے اس کی مقدار کافی زیادہ ہونے اور پانی کی رفتار کے سبب نشیبی علاقوں میں آباد بستیوں میں تیزی سے پانی جمع ہونے لگا ہے کیونکہ مسلسل بارش اور ذخائر آب سے پانی کے بہاؤ کو یقینی بنانے سے نشیبی علاقوں میں پاانی داخل ہوگیا۔ نیشنل ڈزاسٹر ریلیف فورس اور اسٹیٹ ڈزاسٹر ریلیف فورس کے اہلکاروں نے بھی کئی مقامات پر سیلاب میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ حکومت کی رپورٹ میں کہاگیا کہ ابتدائی رپورٹ میں پانی میں بہہ جانے والوں کے علاوہ دیگر نقصانات کی نشاندہی کی گئی جبکہ فصلوں کو نقصانات کے علاوہ زرعی نقصانات کا تخمینہ لگایا جانا باقی ہے۔ مسلسل بارش اور پانی کے تیز بہاؤ کے نتیجہ میں حیدرآباد ۔ نظام آباد شاہراہ پر گذشتہ یوم سے جاری مسلسل بارش کے نتیجہ میں شاہراہ پر آمد ورفت کو روک دیئے جانے کے نتیجہ میں دونوں جانب 20 کیلو میٹر طویل ٹریفک جام رہی ۔ سپرٹنڈنٹ پولیس کاماریڈی نے شاہراہ کو نقصان کاجائزہ لینے کے بعد مصروف شاہراہ پر 25فیصد ٹریفک کو بحال کرنے اقدامات کئے گئے ۔ تلنگانہ کے بیشتر پراجکٹس کے دروازوں کو کھول کر پانی خارج کیا جا رہا ہے ۔ محکمہ آبپاشی نے بتایا کہ مختلف اضلاع میں پراجکٹس بالخصوص نظام ساگر‘ سری رام ساگر‘ سنگور‘ موسیٰ پراجکٹ کے بھی دروازوں کو کھولا گیا ۔ شہر میں حسین ساگر جھیل بھی لبریز ہونے کے بعد پانی کے اخراج کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جس کے نتیجہ میں عہدیداروں نے نشیبی علاقوں میں مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کرکے خطرہ سے واقف کروانے اعلانات کئے ۔ عثمان ساگر کی سطح آب میں اضافہ کے بعد آبرسانی حکام نے عثمان ساگر کے 4 دروازوں کو 3فیٹ تک اٹھاکر پانی کے اخراج کے اقدامات کئے ہیں جبکہ حمایت ساگر کے ایک دروازہ کو کھولتے ہوئے پانی کو موسیٰ ندی میں چھوڑا جانے لگا ہے۔ حیدرآباد و سکندرآباد میں دن بھر مطلع خوشگوار رہا جبکہ کئی اضلاع میں تالاب اور ذخائر آب کی سطح میں اضافہ اور پشتوں کے ٹوٹنے کی اطلاعات ہیں ۔محکمہ آبپاشی اور محکمہ مال کے حکام و محکمہ پولیس سے راحت اور بچاؤ کے کاموں میں سرگرم حصہ لیاگیا جبکہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں فوری طبی سہولتوں کے ساتھ پانی کی نکاسی کے اقدامات کو تیز کیا جاچکا ہے۔ 3