ریاست میں خشک سالی قدرتی نہیں ‘ ریونت ریڈی کی غفلت کا نتیجہ

   

دستیاب پانی سے استفادہ نہیں کیا گیا ۔ میدک کے نرسا پور میں کسانوں سے ملاقات ۔ ہریش راو و دیگر کا بیان
حیدرآباد ۔ 6 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) تلنگانہ میں جو ہے وہ نہ زیادہ بارش ہے نہ قحط سالی، بلکہ یقینی طور پر ’ریونت ورشٹی‘ ہے۔ میدک ضلع کے نرساپور حلقے کے چلپی چیڈ اور ہتنورہ منڈلوں میں بجلی کی کٹوتیوں اور آب پاشی کے پانی کی قلت کی وجہ سے سوکھ جانے والے دھان کے کھیتوں کا جمعہ کے روز سابق وزیر ہریش راؤ نے معائنہ کیا۔ نرساپور کی رکن اسمبلی سنیتا لکشما ریڈی اور سنگاریڈی کے رکن اسمبلی چنتا پربھاکر کے ہمراہ انہوں نے سوکھے کھیتوں میں کسانوں کی خیریت دریافت کی اور ان کی مشکلات سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ اس کے بعد میڈیا کانفرنس میں ہریش راؤ نے کہا کہعام طور پر ہم زیادہ بارش اور قحط سالی دیکھتے رہتے ہیں، لیکن آج تلنگانہ میں جو نظر آ رہا ہے وہ قدرت کی لائی ہوئی قحط سالی نہیں، بلکہ یقینی طور پر ’ریونت ورشٹی‘ ہے۔بارشیں ہونے اور دریاؤں میں وافر پانی موجود ہونے کے باوجود، بروقت موٹریں چالو کر کے پانی لفٹ نہ کرنے کی وجہ سے آنے والا یہ قحط یقینی طور پر ریونت ریڈی حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے آیا ہوا قحط ہی ہے۔ آئندہ اسمبلی اجلاس میں ہم ثبوتوں کے ساتھ اسے ثابت کریں گے۔دیوادولا پراجیکٹ میں کے سی آر نے سمکا بیراج تعمیر کر کے ، 2023 میں تیسرا مرحلہ بھی مکمل کر کے 24 گھنٹے پانی اٹھانے کا موقع فراہم کیا۔ دیوادولا میں 10 موٹریں 24 گھنٹے چلائی جائیں تو 50 سے 60 ٹی ایم سی پانی اٹھایا جا سکتا ہے۔لیکن اس حکومت نے 10 موٹروں میں سے صرف 8 موٹریں ہی چلائیں، اور وہ بھی روزانہ صرف 8 گھنٹے ہی چلا کر 18 ٹی ایم سی پانی بھی نہیں اٹھایا ۔صرف ایک تہائی پانی اٹھا کر باقی دو تہائی گوداوری کا پانی نیچے آندھرا کی طرف چھوڑ دیا۔ ریونت ریڈی نے پانی چھوڑا تو نیچے چندرا بابو نائیڈو نے پٹی سیما میں 100 دن تک 24 گھنٹے موٹریں چلا کر پانی سمیٹ لیا۔اگر ہمت ہے تو حکومت دیوادولا میں کتنی موٹریں، کتنے دن اور کتنے گھنٹے چلائیں، اس پر وائٹ پیپر جاری کرے۔دوسری مثال کلواکرتی لفٹ آب پاشی اسکیم ہے۔ محبوب نگر ضلع سے متصل دریائے کرشنا میں اور سری سیلم پراجیکٹ میں بھرپور پانی ہونے کے باوجود، کلواکرتی میں 5 موٹریں 24 گھنٹے چلا کر 60 ٹی ایم سی پانی اٹھانے کا موقع ہونے کے باوجود، صرف دو تا تین موٹریں 12-10 گھنٹے ہی چلا کر محض 14-13 ٹی ایم سی پانی اٹھایا گیا۔قریب ہی موجود پالمورو کی فصلوں کو سکھا کر، 700 کلومیٹر دور واقع چندرا بابو نائیڈو کے کپّم حلقے کو پانی بہایا گیا۔حال ہی میں کل جماعتی اجلاس میں حکومت نے خود تسلیم کیا کہ ریاست بھر میں 25 لاکھ ایکڑ پر فصلیں سوکھ گئی ہیں۔ لیکن کل ہونے والی کابینہ میں اس پر غور نہیں کیا گیا ۔1