ریاست میں وسط مدتی انتخابات کی تیاریاں ؟‘ ٹی آر ایس کا آج اہم اجلاس

   


کرناٹک کے ساتھ انتخابات کی تجویز چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے زیر غور ۔ اجلاس میں پارٹی قائدین کو نئی ذمہ داریوں پر تبادلہ خیال کا امکان

حیدرآباد۔14۔نومبر(سیاست نیوز) ریاست میں وسط مدتی انتخابات کیلئے تلنگانہ راشٹر سمیتی نے تلنگانہ میں کرناٹک کے ساتھ اسمبلی انتخابات کے انعقاد کی تیاری شروع کردی ہے! حکومت نے منگوڈو میں کامیابی کے ساتھ ہی ریاست میں اپنے قائدین کو متحرک کرنے کے علاوہ کسی اور جماعت کو اپنے حلقہ اثر میں اضافہ کرنے کا موقع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے 15 نومبر کو پرگتی بھون میں پارٹی قائدین و عاملہ کے علاوہ منتخبہ نمائندوں کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے جو کہ وسط مدتی انتخابات کے اشاروں کو تقویت پہنچانے کا سبب بن رہا ہے ۔ ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے 6000مخلوعہ نشستوں پر انتخابات کے سلسلہ میں حکومت کو مکتوب روانہ کرنے کے ساتھی ہی شروع سرگرمیوں کے سلسلہ میں کہا جار ہا ہے کہ حکومت ادارۂ جات مقامی کی ان نشستوں پر انتخابات کے حق میں نہیں ہے اور وسط مدتی انتخابات کیلئے راہیں ہموار کرنے کوشاں ہے۔ پڑوسی ریاست کرناٹک میں مئی 2023میں انتخابات ہونے ہیں اور تلنگانہ میں موجودہ اسمبلی کی معیاد ڈسمبر میں ختم ہور ہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ نے تلنگانہ میں کسی بھی جماعت کو انتخابی سرگرمیوں و تیاریوں کا موقع نہ دینے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے مطابق وہ پڑوسی کرناٹک کے ساتھ انتخابات کے حق میں ہیں اسی لئے وہ نہیں چاہتے کہ ادارہ ٔ جات مقامی کے انتخابات کروائے جائیں۔ بتایاجاتا ہے کہ کرناٹک میں مخالف بی جے پی اور موافق کانگریس لہر کو دیکھتے ہوئے چندر شیکھر راؤ اس کا فائدہ تلنگانہ میں حاصل کرنے کے حق میںہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق تلنگانہ میں ماہ جنوری کے دوران موجودہ اسمبلی کو تحلیل کئے جانے کا امکان ہے کیونکہ چیف منسٹر کے منصوبہ کے مطابق شہر میں زیر تعمیر نئے سیکریٹریٹ کی عمارت کا افتتاح تلسنکرات کے دوران کیا جائے گا کہا جا رہاہے کہ نئے سیکریٹریٹ کی عمارت کے افتتاح کے بعد چیف منسٹر اسمبلی کی10 ماہ قبل تحلیل کا اعلان کرسکتے ہیں کیونکہ تلنگانہ میں سیکریٹریٹ کی تعمیر سے بڑا کوئی اور پراجکٹ زیر التواء نہیں ہے ۔ پرگتی بھون میں 15 نومبر کو اجلاس کے دوران امکان ہے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ پارٹی قائدین سے حلقہ جات اسمبلی کے انچارجس کے تقرر کے سلسلہ میں تبادلہ خیال کریں گے ۔ علاوہ ازیں پارٹی قائدین کو نئی ذمہ داریاں تفویض کرنے پر غور و خوص کیا جائے گا۔ اسمبلی کی جنوری میں تحلیل کی صورت میں کرناٹک کے ساتھ تلنگانہ انتخابات کا اعلامیہ جاری ہوسکتا ہے اور ایسے میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس قیادت کرناٹک میں زیادہ مصروف رہے گی جس کا فائدہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کو ہونے کے امکانات ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست بالخصوص شہر حیدرآباد کے علاوہ شہری اضلاع میں زیر تعمیر پراجکٹس مکمل ہونے کے قریب ہیں ان کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی جاچکی ہے اور کہا جا رہاہے کہ مہدی نواز جنگ کینسر ہاسپٹل کی نئی عمارت کے علاوہ ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی حوالگی کا عمل شروع کیا جائے گا جو کہ آئندہ دو ماہ جاری رہے گا۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین کا کہناہے کہ 15نومبر کے اجلاس میں چیف منسٹر وسط مدتی انتخابات کے اشارے دیں یا نہ دیں لیکن مسلسل پارٹی قائدین کو یہ کہتے رہے ہیں کہ کسی بھی وقت انتخابات کیلئے تیار رہیں۔ چندر شیکھر راؤ کی انتخابی حکمت عملی ے متعلق کہا جا رہاہے کہ اگر ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرکے قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار کی جاتی ہے تو مرکزی حکومت کی جانب سے ٹی آر ایس پر جو شکنجہ کسنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ بھی پارٹی کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگی کیونکہ اگر مرکزی ایجنسیاں پارٹی قائدین کو گرفتار کرتی ہیں یا انہیں حراست میں لیا جاتا ہے تو پارٹی کو عوامی ہمدردی حاصل ہوگی ۔شراب اسکام معاملہ میں سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کاروائیوں کو دیکھتے ہوئے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی اپنے قائدین کے بچاؤ کیلئے قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار کریگی اور اس دوران اگر کسی کی گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے تو اس کا پارٹی کو فائدہ حاصل ہوگا۔