سرکاری مراکز پر عوام کی قطاریں ، حکومت کی جانب سے مناسب اقدامات نہ کرنے پر ناراضگی
حیدرآباد :۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے مختلف مقامات پر کورونا ٹسٹ اور ویکسین کی قلت نظر آرہی ہے ۔ حکومت کی جانب سے قلت کی تردید کرنے کے باوجود گریٹر حیدرآباد کے مختلف پرائمری ہیلت سنٹرس پر جہاں کورونا کا ٹسٹ کیا جارہا ہے اور ٹیکہ اندازی کی مہم چلائی جارہی ہے ۔ وہاں عوام کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی جارہی ہیں ۔ ریاست میں کورونا کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ ہر دن متاثرین کی تعداد ایک نیا ریکارڈ بنا رہی ہے ۔ کورونا کی پہلی لہر کے بہ نسبت دوسری لہر میں عوام زیادہ متاثر ہورہے ہیں اور شرح اموات میں بھی زبردست اضافہ ہورہا ہے ۔ جس کو دیکھتے ہوئے عوام ایک طرف کورونا علامتیں ظاہر ہونے پر ٹسٹ کرانے پہونچ رہے ہیں تو دوسری طرف کورونا وبا سے محفوظ رہنے کے لیے ٹیکہ لینے مراکز پہونچ رہے ہیں ۔ عوام میں شعور بیدار ہوگیا ہے ۔ شہری عوام کے ساتھ دیہی عوام بھی سرکاری مراکز پہونچ رہے ہیں ۔ لیکن ٹسٹنگ کٹس اور کورونا ویکسین کی قلت پائی جارہی ہے ۔ اس معاملے میں عملہ بے بسی کا اظہار کررہا ہے ۔ لوگوں کو دوسرے دن آنے کا مشورہ دیا جارہا ہے اور دوسرے دن پہونچنے پر بھی عوام کا ٹسٹ نہیں ہورہا ہے یا ویکسین کی قلت پائی جارہی ہے ۔ ٹسٹنگ کٹس اور ویکسین کی سربراہی میں باقاعدگی نہ ہونے کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے ۔ ٹسٹ کرانے اور ٹیکہ لینے کے لیے مراکز پر پہونچنے والے عوام حکام پر اپنی ناراضگی اور برہمی کا اظہار کررہے ہیں لیکن وزیر صحت ایٹالہ راجندر اور محکمہ صحت کی جانب سے ٹسٹنگ کٹس اور ویکسین کی قلت ہونے کی تردید کی جارہی ہے ۔ حکومت کو اس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اگر ایک متاثر شخص کو بار بار نظر انداز کیا جاتا ہے تو اس سے دوسروں میں وبا پھیلنے کے خدشات ہیں ۔ اس کے علاوہ چند ایسی بھی شکایتیں آرہی ہیں کہ ٹسٹ کرنے کے باوجود رپورٹ دینے میں تاخیر کی جارہی ہے ۔ حکومت ایسی شکایتوں کا سخت نوٹ لیں ۔ ٹسٹنگ اور ٹیکہ اندازی کے مراکز پر جو بھی مسائل ہیں اس کو فوری دور کریں ۔ متاثرین کے ساتھ کی جانے والی لاپرواہی ریاست کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ۔ انتظامی جو بھی مسائل ہیں اس کو دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں ۔۔