ریاست پر قرض کا بوجھ 3 لاکھ کروڑ سے تجاوز کر گیا

   

ہر شہری پر 94,272 روپئے کا قرض ۔ ہر سال 18,911 کروڑ روپئے سود کی ادائیگی
حیدرآباد : /8 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ پر 3 لاکھ کروڑ روپئے کا قرض عائد ہوچکا ہے ۔ حکومت نے سال 2022-23 ء میں قرض کی جو تجاویز پیش کی ہیں اس سے قرض کا بوجھ 3,29,988 کروڑ ہوجائیگا ۔ 2021-22 ترمیم شدہ بجٹ کے بعد ریاست کا قرض 2,85,120 کروڑ تھا ۔ /7 مارچ کو وزیر فینانس ہریش راؤ کے اسمبلی میں پیش کردہ بجٹ میں جاریہ سال مزید 59 ہزار کروڑ کا نیا قرض لینے کا تذکرہ کیا گیا ۔ اس میں ماضی میں حاصل کردہ قرضوں کی ادائیگی کے بعد 45 ہزار کروڑ روپئے جملہ قرضوں میں جمع ہوں گے جس سے ریاست پر 3.29 لاکھ کروڑ روپئے سے زائد قرض ہوگا ۔ حکومت کی جانب سے مختلف کارپوریشنس کے نام ضمانت دیتے ہوئے حاصل کردہ قرضوں کو شمار کرنے پر ریاست کے ہر شہری پر جاریہ سال 81,935 روپئے کا قرض ہوگا ۔ حکومت کیمحصلہ قرض کا جائزہ لینے پر عام مارکٹ سے حاصل کردہ (90) فیصد قرض ہے ۔ سال 2021-22 ء میں عام مارکٹ سے جملہ 2,44,238 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ۔ جاریہ سال مزید 53,970 کروڑ قرض حاصل کرنے کی تجویز ہے ۔ مرکز سے تاحال 755.59 کروڑ روپئے قرض حاصل کیا گیا ۔ آئندہ مالیاتی سال مزید 4,102 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا جارہا ہے ۔ سال 2021-22 ء کے ترمیم شدہ بجٹ میں حکومت نے 6,377.77 کروڑ روپئے کی سیکوریٹی ہراج کے ذریعہ قرض حاصل کیا تھا ۔ چند مالیاتی ادارے بنکوں سے 14,161,74 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ۔ پراویڈنٹ فنڈز اور انشورنس کے ذریعہ 12,785 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ تمام قرض ایف آر بی ایم ایکٹ کے مطابق لئے جارہے ہیں اس میں جوکھم بھرے قرض کم ہیں اور ادائیگی آسانی سے کی جارہی ہے ۔ ان قرضوں سے ریاست کے اثاثہ جات میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ ریاست کے قرضوں پر جاریہ سال سود کے تحت 18,911 کروڑ روپئے ادا کرنے ہوں گے ۔ فی الحال سود کے تحت 17,584 کروڑ روپئے ادا کیا جارہا ہے جس میں آئندہ سال مزید 1300 کروڑ روپئے کا اضافہ ہوگا ۔ ن