ممبئی: انسداد منشیات اسکواڈ (این سی بی) کی جانب گرفتار اداکارہ ریا چکرورتی کوکل ممبئی کی عدالت نے 22 ستمبر تک عدالتی تحویل میں دینے حکم دیا تھا۔ اس کے بعد آج اسے ممبئی کی بائیکلہ جیل میں منتقل کیا گیا۔ کل عدالتی حکم کے بعد ریا چکرورتی کو رات بھر، انسداد منشیات اسکواڈ کے لاک اپ روم میں رکھا گیا تھا ، کیونکہ ضابطہ کے مطابق کسی بھی خاتوں قیدی کو شام میں مغرب کے بعد جیل منتقل نہیں کیا جاسکتا، اسی لیے ریا کو آج مرزا غالب مارگ پر واقع بائیکلہ جیل میں منتقل کیا گیا۔ممبئی کی مشہوربائیکلہ جیل میں ابتک کئی مشہور خواتین قیدیوں کو رکھا گیا ہے ، شینا بورا قتل کیس کی ملزمہ اندرانی مکھرجی اور مالیگاوں بم دھماک کیس کی ملزمہ (موجودہ رکن پارلیمنٹ) سادھوی پریگیہ سنگھ ٹھاکر اور کو بھی اسی جیل میں رکھا گیا ۔ اس جیل کے دو حصوں میں سے ایک خواتین قیدیوں کے لیے مختص ہے ،جس میں عام طور پر منشیات ، ڈرگس کے کاروبار میں ملوث اور اسی ضمن میں گرفتار خواتین کو رکھا جاتا ہے ، اور ان خواتین قیدیوں کی اکثریت غیرملکی خواتین پر مشتمل ہے ۔ تاہم این سی بی کی جانب سے ریا کو ضمانت دیے جانے کی مخالفت کے بعد، جسے عدالت نے نامنظور کر دیا تھا۔کل ریا کے وکیل وکیل ستیش مانشندے نے انسداد منشیات اسکواڈ (این سی بی) کی جانب آج ریا چکرورتی کی گرفتاری کو” نشے کے عادی اور ذہنی طور پر بیمار شخص سے پیار کرنے کی سزا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریا کو ایک ایسے شخص کے ساتھ پیار کرنے کی یہ سزا بھگتنا پڑی رہی ہے ، جو کئی سالوں سے ذہنی طور پر بیمار تھا اور جس نے نشے کی وجہ سے خودکشی کرلی تھی۔