رینوکا چودھری کھمم لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کیلئے تیار

   

مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے نریندر مودی پر الزام، الیکشن کمیشن سے کارروائی کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 22 ۔ اپریل (سیاست نیوز) کھمم لوک سبھا حلقہ سے کانگریس امیدوار کے اعلان میں تاخیر کے دوران رکن راجیہ سبھا رینوکا چودھری نے یہ کہتے ہوئے پارٹی حلقوں میں سنسنی دوڑا دی ہے کہ وہ کھمم لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کیلئے تیار ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے رینوکا چودھری نے کہا کہ اگر ہائی کمان ہدایت دے تو وہ کھمم سے مقابلہ کیلئے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ کھمم نشست پر تینوں وزراء کی دعویداری نے ہائی کمان کو الجھن میں مبتلا کردیا ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا اپنی اہلیہ ، ریاستی وزراء پی سرینواس ریڈی اور ٹی ناگیشور راؤ اپنے بھائی کیلئے ٹکٹ کی مانگ کر رہے ہیں۔ یہ تنازعہ بنگلور میں ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیو کمار تک پہنچ چکا ہے جنہوں نے اس مسئلہ پر ہائی کمان سے بات چیت کرنے کا تیقن دیا۔ کھمم سے ٹکٹ کی اہم دعویدار رینوکا چودھری کو پارٹی نے راجیہ سبھا کیلئے منتخب کیا جبکہ وہ سابق میں کھمم کی نمائندگی کرچکی ہے ۔ رینوکا چودھری نے کہا کہ کے سی آر کو اب سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے آرام کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ دواؤں کے اثر کے تحت کے سی آر کانگریس کے خلاف کچھ زیادہ ہی بیان بازی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کو شکست کا یقین ہوچکا ہے ، لہذا وہ ہندو خواتین کو منگل سوتر سے محروم ہونے کا خوف دلا رہے ہیں۔ رینوکا چودھری نے کہا کہ میرا منگل سوتر چھیننے کی کسی میں ہمت نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کو نریندر مودی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اپنی غیر جانبداری ثابت کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان باہم شیر و شکر زندگی بسر کرتے ہیں اور کوئی بھی طاقت ان میں نفرت پیدا نہیں کرسکتی۔ 1