ریونت ریڈی کا پارٹی امیدواروں سے ربط، انچارج وزراء سے رائے دہی پر بات چیت

   

کے سی آر اور کشن ریڈی بھی امیدواروں سے ربط میں، ایک دوسرے پر رائے دہندوں کو لالچ دینے کا الزام

حیدرآباد۔/12 مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں لوک سبھا کے 17 حلقہ جات کی انتخابی مہم کے اختتام کے ساتھ ہی اہم سیاسی پارٹیوں نے رائے دہی کی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کردی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی، بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر اور بی جے پی کے ریاستی صدر کشن ریڈی نے لوک سبھا حلقہ جات کے امیدواروں کے علاوہ انچارجس اور مبصرین سے ربط قائم کرتے ہوئے رائے دہی کے دن چوکسی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے لوک سبھا حلقوں کے انچارج ریاستی وزراء سے ربط قائم کیا اور رائے دہی کے سلسلہ میں اختیار کردہ حکمت عملی کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ چیف منسٹر نے بتایا جاتا ہے کہ کانگریس امیدواروں اور قائدین کو متنبہ کیا کہ وہ بی جے پی اور بی آر ایس کی جانب سے رائے دہندوںمیں رقومات اور شراب کی تقسیم پر کڑی نظر رکھیں اور اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن کے مبصرین کو واقف کرایا جائے۔ رائے دہندوں تک ووٹر سلپ کی تفصیل کا جائزہ لیا جائے اور کانگریس کے حامیوں کی صبح کی اولین ساعتوں میں رائے دہی مراکز پر موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات کئے جانے والے پولنگ ایجنٹس اور ان کے معاونین کو مکمل ٹریننگ دی گئی ہے تاکہ کسی بھی بے قاعدگی پر چیلنج کیا جاسکے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی تنصیب سے قبل ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اطلاع کے مطابق چیف منسٹر نے قائدین سے کہا کہ تلنگانہ میں 14 لوک سبھا نشستوں پر کانگریس کا موقف مستحکم ہے۔ انہوں نے امیدواروں کو رائے دہی کے اختتام تک مکمل چوکسی برتنے کی ہدایت دی ہے۔ کسی بھی انتخابی بدعنوانی کی صورت میں چیف الیکٹورل آفیسر سے شکایت کی جائے اور گاندھی بھون میں قائم کردہ الیکشن سیل کو واقف کرایا جائے۔ پارٹی نے 17 لوک سبھا حلقوں کیلئے ریاستی وزراء اور سینئر قائدین کو انچارج مقرر کیا ہے۔ دوسری طرف بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر کے علاوہ سابق وزراء کے ٹی راما راؤ اور ہریش راؤ نے پارٹی امیدواروں سے ربط قائم کیا اور موجودہ صورتحال پر بات چیت کی۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو رائے دہی کے اختتام تک متحرک رکھنے کا مشورہ دیا۔ بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن نے دعویٰ کیا ہے کہ تلنگانہ میں بی جے پی ڈبل ڈیجیٹ نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے آج پارٹی کے سینئر قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا اور امیدواروں کیلئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی آر ایس اور کانگریس رائے دہندوں میں دولت اور شراب کی تقسیم کے ذریعہ انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 10 حلقہ جات میں بی جے پی کے حق میں لہر دیکھی جارہی ہے جن میں عادل آباد، کریم نگر، میدک، نظام آباد، ظہیرآباد، ملکاجگری، چیوڑلہ، محبوب نگر، سکندرآباد اور ناگرکرنول شامل ہیں۔ 1