یونیورسٹی میں طلبہ کا احتجاج ناکام، گرفتاریاں، کشیدگی، پولیس کے سخت انتظامات
حیدرآباد۔24۔مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن پرچہ جات کے افشاء کے خلاف عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ تنظیموں کی جانب سے دو روزہ احتجاج کو پولیس نے ناکام بنادیا جس کے نتیجہ میں عثمانیہ یونیورسٹی میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ پولیس نے طلبہ تنظیموں کو احتجاج سے روکنے کیلئے امتناعی احکام نافذ کئے اور یونیورسٹی کے تمام اہم راستوں کو بند کردیا گیا تاکہ طلبہ یونیورسٹی میں داخل نہ ہوں۔ پولیس کی بھاری جمیعت کو تعینات کردیا گیا تھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی کی مختلف طلبہ تنظیموں نے صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کو مدعو کیا تھا۔ یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی کے کارکنوں کو یونیورسٹی کے باہر احتجاج پر حراست میں لے لیا گیا۔ یونیورسٹی میں احتجاج کو ناکام بنانے پولیس نے ریونت ریڈی اور کانگریس کے دیگر قائدین کو مکانات پر محروس رکھا۔ رات دیر گئے سے پولیس کی بھاری جمیعت ریونت ریڈی کی قیامگاہ کے باہر تعینات کی گئی اور کانگریس قائدین کوبھی قیامگاہ میں داخلہ کی اجازت نہیں دی گئی۔ ریونت ریڈی نے پولیس کے رویہ پر برہمی کا اظہار کیا۔ دوپہر کے بعد تک بھی ریونت ریڈی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کانگریس کے دیگر قائدین جن میں سمپت کمار ، ملو روی ، انجن کمار یادو ، ای دیاکر، سمیر ولی اللہ اور دوسروں کو بھی قیامگاہوں پر محروس رکھا گیا ۔ ریونت ریڈی نے پولیس رویہ کے خلاف ٹوئیٹر پر تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر اور ریاستی وزیر کے ٹی آر کو عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ کی موجودگی میں پرچہ جات کے افشاء معاملہ میں مباحث کے لئے تیار ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر پرچہ جات کے افشاء میں کے ٹی آر اور کے سی آر کا رول نہیں ہے تو انہیں مباحث کیلئے تیار ہونا چاہئے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کو عملاً پولیس نے اپنے گھیرے میں لے لیا اور کسی کو آرٹس کالج جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر شیوا سینا ریڈی اور دیگر قائدین کو یونیورسٹی کے باہر حراست میں لے لیا گیا ۔ طلبہ کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا کہ آرٹس کالج کے روبرو بہر صورت احتجاج منظم کیا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے بھی کہا کہ وہ کسی بھی صورت میں یونیورسٹی پہنچ کر احتجاج میں حصہ لیں گے۔ر