ماہانہ 5000 روپئے مقرر کرنا ججس کی توہین
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے پولیوشن کنٹرول بورڈ اپیلیٹ اتھاریٹی کے طور پر ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججس کے لئے حکومت کی جانب سے تجویز کردہ ماہانہ اعزازیہ پر سخت اعتراض کیا ہے ۔ حکومت نے اپیلیٹ اتھاریٹی میں تقرر کئے جانے والے ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججس کو ماہانہ 5000 روپئے اعزازیہ اور ایک ہزار روپئے سیٹنگ فیس کی تجویز پیش کی ہے ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کی اس تجویز پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں حکومت کا رویہ ٹھیک نہیں ہے ۔ پولیوشن کنٹرول بورڈ میں اپیلیٹ اتھاریٹی کی تشکیل حکومت کیلئے لازمی ہے اور ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججس کا تقرر کیا جاتا ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے ہائی کورٹ رجسٹری کو مکتوب روانہ کیا جس میں ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج کے نام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ماہانہ 5000 روپئے اعزازیہ مقرر کرنے کی اطلاع دی گئی ۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی نے تجویز پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ہائی کورٹ رجسٹری کو ہدایت دی کہ وہ حکومت کو مکتوب واپس کردیں کیونکہ یہ ریٹائرڈ ججس کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا حکومت تصور کرتی ہے کہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججس اس معمولی رقم کیلئے کام کریں گے ؟ کیا ریٹائرڈ ججس کام حاصل کرنے کیلئے بے چین ہیں ؟ انہوں نے ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد کو ہدایت دی کہ حکومت کو پیر تک جی او جاری کرنے کا مشورہ دیں۔ بصورت دیگر ہائی کورٹ متعلقہ محکمہ جات کے سکریٹریز کو طلب کرے گا ۔ جسٹس وجئے سین ریڈی نے بھی حکومت کی تجویز پر سخت ناراضگی جتائی ۔