ریپبلکن، ڈیموکریٹس کا بائیڈن سے مزید ایرانی تیل ضبط کرنے کا مطالبہ

   

واشنگٹن : متعدد ریپبلکن اور ڈیموکریٹک سینیٹرز نے بائیڈن انتظامیہ کی ایرانی تیل اور گیس کی کھیپ کو ضبط کرنے کی صلاحیت کے فقدان پر جمعرات کو افسوس کا اظہار کیا حالانکہ ایک امریکی سرکاری ایجنسی کو ایسا کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔12 سینیٹرز کی جانب سے صدر بائیڈن کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا ہیکہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشنز (ایچ آئی ایس) جس کی تشکیل 2019 میں ہوئی تھی اسے فعال کیا جائے۔ اس ایجنسی نے قیام کے بعد اب تک ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس سے تعلق رکھنے والا تقریباً 230 ملین ڈالر کا ایرانی خام اور ایندھن کا تیل ضبط کیا ہے۔ قبضے میں لئے گئے ایرانی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی ریاستی متاثرین دہشت گردی فنڈ کو بھی جاتی ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہیکہ دفتر ایک سال سے زیادہ عرصے سے ایرانی تیل کی کھیپ کو ضبط کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے کیونکہ محکمہ خزانہ کے ایگزیکٹو آفس برائے اثاثہ جات کی ضبطی کی بعض پابندیوں نے ایجنسی کا کردار محدود کر دیا ہے۔ یہ ناقابل قبول ہیکہ امریکی حکومت کا پروگرام جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو زیادہ محفوظ بناتا ہے، دہشت گردی کے متاثرین کیلئے فنڈز فراہم کرتا ہے اور امریکہ کیلئے کم لاگت سے آمدنی پیدا کرتا ہے، اسے ختم ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہیکہ سینیٹرز نے کہا کہ چونکہ ایرانی تیل کی فروخت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور پاسداران انقلاب امریکی شہریوں اور فوجیوں کو نشانہ بنا رہا ہے، بشمول امریکہ کے اندر یہ ضروری ہیکہ ہم تمام دستیاب سرکاری اثاثوں کو ایرانی حکومت کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کیلئے استعمال کریں۔ یہ خط جس پر 12 سینیٹرز کے دستخط تھے، اسی دن بھیجا گیا ہے جب امریکی بحریہ نے کہا ہیکہ ایران نے خلیج عمان میں مارشل آئی لینڈ کے جھنڈے والے ٹینکر کو قبضے میں لے لیا۔ایرانی فوج کا کہنا ہیکہ اس نے ٹینکر کو ایرانی کشتی سے ٹکرانے کے بعد قبضے میں لے لیا تھا۔