زبانوں کا جھگڑا

   

عجب لہجہ ہے اس کی گفتگو کا
غزل جیسی زباں وہ بولتا ہے
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے رہتے اور بستے ہیں اور یہیں بے شمار زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ ہر علاقہ کی اپنی ایک الگ زبان ہے ۔ ہر علاقہ کا اپنا ایک کلچر ہے ۔ اپنی ایک تہذیب ہے اور ہر علاقہ اپنے آپ میں ایک مثال پیش کرتا ہے ۔ الگ الگ زبانیں اور الگ الگ کلچر ہی ہندوستان کو کثرت میں وحدت کی تصویر کے طور پر پیش کرتے ہیں اور ساری دنیا میں ہندوستان کی یہی انفرادیت ہے جس کی ستائش بھی کی جاتی ہے ۔ الگ الگ زبانی بولنے ‘ الگ الگ مذہب کو ماننے اور الگ الگ کلچر و ثقافت رکھنے کے باوجود سارا ہندوستان ایک ہے اور سارے ہندوستانی ایک ہیں۔ اپنے علاقائی اور مقامی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں ہندوستان کی کوئی مثال نہیں دی جاسکتی ۔ تاہم حالیہ عرصہ میں دیکھا گیا ہے کہ علاقائی عصبیت اور لسانی تعصب کو فروغ دیا جانے لگا ہے ۔ دھیرے دھیرے علاقائی اور مقامی زبانوں کو ختم کرتے ہوئے ایک ہی زبان مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کی مزاحمت بھی ہونے لگی ہے ۔ تازہ ترین جھگڑا ٹامل اور ہندی کا دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ قومی سطح پر میڈیکل داخلوں کیلئے ہونے والے نیٹ امتحان کو ٹامل زبان میں بھی منعقد کرنے کیلئے ٹاملناڈو نے مطالبہ کیا تھا ۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت کی تعلیمی پالیسی کے ذریعہ ہندی مسلط کرنے کے الزامات بھی عائد کئے گئے ہیں۔ مرکزی حکومت اپنے طور پر ہندی کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کر رہی ہے تو ٹاملناڈو حکومت کا دعوی ہے کہ وہ ٹامل زبان اور اس کی شناخت کا تحفظ کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے اور یہ جدوجہد جاری رہے گی ۔ دھیرے دھیرے یہ مسئلہ ایک تنازعہ کی شکل اختیار کرنے لگا ہے ۔ گذشتہ دنوں چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن نے کہا تھا کہ ہندی کی ٹاملناڈو میں نہ پہلے کوئی جگہ تھی نہ اب کوئی جگہ ہے اور نہ مستقبل میں کوئی جگہ رہے گی ۔ اب ٹاملناڈو کے ڈپی چیف منسٹر اودئے ندھی اسٹالن نے الزام عائد کیا کہ ہندی کو مسلط کرتے ہوئے بتدریج کئی علاقائی زبانوں کو ختم کردیا گیا ہے ۔ یہ مسئلہ اب ایسا لگتا ہے کہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جو ملک کی ثقافت اور کثرت میں وحدت کیلئے ٹھیک نہیں ہے ۔
یہ درست ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ہندی کو فروغ دینے کے نام پر ہندی کو مسلط کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ جس طرح سے تعلیمی نصاب میں ایک سوچ کو مسلط کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے اور کئی اداروں پر تسلط قائم کرلیا گیا ہے اسی طرح ہندی کو بھی مسلط کرنے کیلئے نت نئے انداز سے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ علاقائی زبانوں کا جہاں تک سوال ہے تو یہ اپنے آپ میں منفرد کہی جاسکتی ہیں اور اپنا ایک شاندار تہذیبی ورثہ رکھتی ہیں۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں اتنی زبانیں وبولی جاتی ہیں جتنی دنیا میں کہیں نہیں بولی جاتیں ۔ اس کے باوجود ہم ایک دوسرے سے اختلاف نہیں کرتے بلکہ اپنی علاقائی اور مقامی شناخت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ حالیہ عرصہ میں ملک میں کئی مقامی اور علاقائی زبانیں ختم ہونے لگی ہیں اور ان کا تہذیبی ورثہ بھی دم توڑنے لگا ہے ۔ ایسے میں اگر ایک زبان سارے ملک پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ دست نہیں ہوسکتی ۔ یقینی طور پر ہندی ملک کی قومی زبان ہے اور اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے اور اس میں کوئی کمی نہیں کی جاسکتی لیکن ساتھ ہی علاقائی زبانوں کو بھی نہ نظر انداز کیا جاسکتا ہے اور نہ ان کی اہمیت گھٹائی جاسکتی ہے ۔ علاقائی زبانیں بھی ہندوستان میں بولی اور سمجھی جانے والی زبانیں ہیں ۔ یہ کوئی دوسرے ملک کی زبان نہیں ہے ۔ یہ ہماری اپنی زبانیں ہیں اور ان کا تحفظ کیا جانا چاہئے اور ان کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہئے ۔
مرکزی حکومت کی جانب سے ہندی کو فروغ دینے اور اس کی اہمیت کو برقرار رکھنے اقدامات کئے جانے چاہئیں ۔ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن مرکز کو اس بات کا بھی احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر علاقائی زبان ہندوستان کی ہی زبان ہے اور اس کی اپنی بھی ایک اہمیت ہے ۔ اس طرح ان زبانوں کو بھی ختم کرنے یا محض ایک زبان مسلط کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے رواداری کا ماحول فروغ دیا جانا چاہئے اور ہر زبان کو اپنی شناخت برقرار رکھنے اور پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہئے ۔ اس طرح ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی بھی برقرار رہے گی اور علاقائی عصبیت کو بھی ختم کیا جاسکے گا ۔