زرعی بل تنازعہ

   

صراحی کا بھرم کُھلتا نہ میری تشنگی ہوتی
ذرا تم نے نگاہِ ناز کو تکلیف دی ہوتی
زرعی بل تنازعہ
پارلیمنٹ میں اب جمہوری روایات کا تحفظ ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ ایوان کی کارروائی اور کسی بھی قانون یا آرڈیننس کی منظوری کے لیے جب حکمراں طاقت اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرے تو پھر یہ واقعہ بدبختانہ کہلائے گا ۔ زرعی اصلاحات بل کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے ہنگامہ کر کے آرڈیننس کی منظوری کو روکنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی ۔ اس کی وجہ حکمراں بی جے پی نے ملک کے ہر اہم شعبہ کو بڑی طاقتوں کے حوالے کرنے کا عمل تیز کردیا ہے ۔ کسانوں کا بھی کنٹرول اب خانگی اداروں کے سپرد کردینے والے اس بل کی شدید مخالفت ہورہی ہے ۔ سوال یہ اُٹھ رہا ہے کہ آخر بی جے پی حکومت کا یہ نیا سسٹم کس طرح کام کرے گا ۔ حکومت نے پوری تیاری اور مستعدی کے ساتھ تمام 3 بلوں کو پارلیمنٹ سے منظور کرایا اور اس حکومت کا واحد نکاتی مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ یکطرفہ طور پر اپنی پالیسیاں ہر ایک پر مسلط کرنا چاہتی ہے ۔ حکومت نے ان بلوں کے تعلق سے کہا کہ اس کی یہ کوشش کارگر سرمایہ کاری کے ذریعہ غیرکارگر امور کو ہٹا دینا ہے ۔ ان بلوں سے آزادانہ تجارت کی راہ ہموار ہوگی ۔ اور بڑی کمپنیوں کو چھوٹے چھوٹے کسانوں سے رابط کرنے کا موقع ملے گا ۔ گویا کسان کا پیدا کردہ اناج اب بڑے بیوپاری خریدیں گے ۔ کنٹراکٹ فارمنگ بل سے کسانوں کو بڑے بیوپاریوں سے معاہدہ کرنے کا موقع دیا جارہا ہے ۔ لیکن اس طرح کی کنٹراکٹ فارمنگ کے لیے زرعی مارکٹ میں رجسٹریشن کروانے کی ضرورت ہوگی ۔ یہ عمل کسانوں کے لیے اس قدر نقصان دہ ہوگا کہ آگے چل کر غریب کسان آسانی سے بڑے بیوپاریوں کے جال میں پھنس جائیں گے ۔ سرکاری محکموں میں رشوت خوری کی وجہ سے اگر کسان اپنا اناج وقت پر بیوپاریوں کے حوالے کرنے سے قاصر ہوں یا کنٹراکٹ کی خلاف ورزی ہوجائے تو پھر یہاں کسانوں کے ساتھ جو مسائل اور پریشانیاں ہوں گی اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا ۔ سیاسی طاقت ہمیشہ بڑے بیوپاریوں کا ساتھ دے گی ۔ کسانوں سے بظاہر ہمدردی دکھانے والے وقت آنے پر اگر کسان کو پریشانی میں ڈھکیل دیں تو اس سے بہت بڑا دھکہ پہونچے گا ۔ اس سلسلہ میں ایک مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ گذشتہ سال ہی ایک بڑی خانگی کمپنی نے گجرات کے کسانوں پر ایک کروڑ روپئے کا ہرجانہ مقدمہ دائر کردیا تھا کیوں کہ ان کسانوں نے اس کمپنی سے کئے گئے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے آلو کی کاشت دوسروں کو فروخت کردئیے تھے ۔ یہ حربے اس وقت سیاسی رنگ لاتے ہیں جب سیاسی حکمراں پارٹی ہمدردی دکھاتے ہوئے مداخلت کرتی ہے ۔ گجرات میں بھی ریاستی حکومت نے کسانوں کے ایک کروڑ ہرجانہ کے کیس میں مداخلت کر کے معاملہ رفع دفع کردیا ۔ اس مرحلہ کی تکمیل تک کسانوں کو جو مسائل سے دوچار ہونا پڑا اس کا سدباب نہ تو حکومت کرتی ہے اور نہ ہی بڑے بیوپاری کرتے ہیں ۔ زرعی شعبہ میں بڑے سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرنے کا مقصد اب اس شعبہ کے غریب کسانوں کو بے سہارا کردینا ہے ۔ اس لیے کانگریس لیڈر راہول گاندھی سمیت کئی اپوزیشن قائدین نے بل کی مخالفت کی ہے ۔ یہ زرعی اصلاحات بل سراسر کسانوں کے لیے موت کا پروانہ ہے ۔ کسانوں نے بل کے خلاف احتجاج شروع کیا ہے ۔ اب تمام اپوزیشن پارٹیاں اس مسئلہ پر متحد ہو کر پارلیمنٹ کی کارروائیوں کو من مانی طریقہ سے چلانے اور بلوں کی منظوری میں اصولوں اور روایات کو بالائے طاق رکھنے کا نوٹ لے کر حکومت کی غلطیوں پر آواز اٹھانے کی ضرورت محسوس کرتی ہیں تو یہ غریب عوام کے حق میں انصاف فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔ ایک ایسے وقت جب کہ سارا ملک کورونا وائرس سے پریشان ہے کسان بھی اور غریب عوام اناج کی کمی اور مہنگائی سے پریشان ہیں مرکزی حکومت کسانوں اور غریبوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے بل لائی ہے ۔ مرکز نے اس معاملہ میں ریاستوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا ملک بھر کے کروڑہا کسان کو حکومت مایوس کرے گی تو اس کے مستقبل کے لیے یہ یکطرفہ کارروائی مناسب نہیں ہے ۔۔