مرکزی کابینہ نے آج اپنے اجلاس میں تین متنازعہ زرعی قوانین کی تنسیخ کو منظوری دیتے ہوئے اہم پیشرفت کی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے قوانین واپس لئے جانے کے اعلان کے پانچ دن میں مرکزی کابینہ نے اس مسئلہ پر پیشرفت کی ہے اور یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ قوانین کی تنسیخ کی سمت تمام ضروری کاررائیوںکو مکمل کرلیا گیا ہے اور پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میںیہ بل پیش کرتے ہوئے قوانین کو واپس لے لیا جائیگا ۔ تاہم ان قوانین کے تعلق سے مختلف گوشوں سے اندیشے بھی پھیلائے جا رہے ہیں۔ بی جے پی کے بعض قائدین کا کہنا ہے کہ ان بلوںکو وقتی طور پر واپس لیا گیا ہے اور جیسے ہی حالات سازگار ہوجائیں گے ان بلوں کو دوبارہ پارلیمنٹ میں متعارف کروایا جائیگا ۔ حکومت کی جانب سے حالانکہ کسانوں کیمفادات اور ان کے مطالبات کا حوالہ دیا جارہا ہے تاہم ان اندیشوں کو دور کرنا بھی ضروری ہے کہ ان بلوں کو دوبارہ متعارف نہیں کروایا جائیگا بلکہ کسانوں کے جو دوسرے مسائل ہیں ان کو بھی حکومت حل کرنے کی کوشش کریگی ۔ کسان برادری چاہتی ہے کہ انہیںان کی پیداوار کی اقل ترین امدادی قیمت فراہم کرنے کے تعلق سے بھی قانون سازی کرلی جائے ۔ کسانوں کیدعوی کے مطابق حکومت نے اس سلسلہ میں پہلے ہوئی بات چیت میں اتفاق بھی کیا تھا ۔ اس تعلق سے بھی مرکزی حکومت کو آگے آنے کی ضرورت ہے تاکہ کسانوں کے ساتھ بات چیت ہوسکے ۔ ان کی تشویش کی سماعت ہوسکے اور ان کے مطالبات کو بہتر انداز مے۸ںسمجھتے ہوئے ان کی یکسوئی کی سمت پیشرفت ہوسکے ۔ حکومت نے حالانکہ زرعی قوانین کی تنسیخ کا اعلان کردیا تھا اور آج مرکزی کابینہ نے بھی اس کو منظوری دیدی ہے لیکن ابھی تک دوسرے مطالبات پر حکومت نے کوئی موقف ظاہر نہیں کیا ہے ۔ کسانوںکو اقل ترین امدادی قیمت پر قانون سازی کرنے کیلئے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کسانوں کوبات چیت کیلئے مدعو کیا گیا ہے ۔ اس کام میں بھی مرکز کو تاخیر نہیںکرنی چاہئے ۔ زرعی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے کسانوں کے ساتھ بات چیت کا راستہ جلد اختیار کیا جانا چاہئے ۔
جو اندیشے بی جے پی کے قائدین کی جانب سے پھیلائے جا رہے ہیں انہوں نے کسانوں اور ملک کے عوام کو بھی بے چین کیا ہوا ہے ۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج متنازعہ بیانات کیلئے شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بھی کہا کہ قانون تو بنتے اور بگڑتے رہتے ہیںا ور یہ اب واپس لئے جا رہے ہیں تو انہیں دوبارہ بنالیا بھی جائیگا ۔ اس طرح انہوںنے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ محض انتخابی نقصان کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت نے قوانین واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے جس طرح پٹرولیم قیمتوں کے معاملے میں کیا جاتا ہے ۔ جیسے ہی انتخابات مکمل ہوجائیں گے قوانین دوبارہ تیار کرلئے جائیں گے ۔ مدھیہ پردیش کے ایک وزیر نے بھی اسی طرح کا بیان دیا ہے اور یہ دعوی کیا ہے کہ کچھ وقت یہ قانون دوبارہ پارلیمنٹ میںپیش کرکے منظور کرلئے جائیں گے ۔ یہ جو اندیشے ہیں ان کو دور کیا جانا بہت ضروری ہے ۔ کسان برادری اب بھی حکومت کے اعلان پر مطمئن نظر نہیں آ رہی ہے اور خاص طور پر بی جے پی قائدین کے بیانات کے بعد کسانوں کی بے چینی سمجھ میں بھی آتی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے بھی مسلسل الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ پانچ ریاستوںمیں ہونے والے اسمبلی انتخابات کو نظر میں رکھتے ہوئے قوانین کو واپس لیا گیا ہے ۔ تاہم حکومت کو واضح کردینا چاہئے کہ یہ قوانین دوبارہ واپس نہیںلائے جائیں گے ۔
اقل ترین امدادی قیمت کا جہاں تک مسئلہ ہے اس پر بھی کسانوں کو تشویش اور فکر لاحق ہے ۔ وہ اس مسئلہ کی بھی فوری یکسوئی چاہتے ہیں تاکہ انہیں دوبارہ دہلی کی سرحدات تک پہونچ کر احتجاج کرنے کی نوبت نے آنے پائے ۔ مرکزی حکومت کو اس معاملے میں بالکل واضح موقف اختیار کرنا چاہئے ۔ جس طرح وزیراعظم نے قوانین واپس لینے کا اعلان کیا تھا اسی طرح پارلیمنٹ میں یا باہر یہ واضح کردینا چاہئے کہ یہ قوانین دوبارہ متعارف نہیںکروائے جائیں گے ۔ اقل ترین امدادی قیمت پر قانون سازی کی جائے گی اور زرعی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے جو کچھ ممکن ہوسکتا ہے وہ اقدامات کئے جائیں گے ۔ کسانوں کے ذہنوںمیںاندیشوں کو ہوا دیتے ہوئے ایک سازگار اور مثبت ماحول پیدا کرنے کی کوشش کامیاب نہیںہوگی ۔
