خیالِ خاطر احباب اور کیا کرتے
جگر پہ زخم بھی کھائے شمار بھی نہ کیا
تقریبا تمام سرکاری امور اورا پنے فیصلوں میں ہٹ دھرمی اور اکثریت کے زعم کا مظاہرہ کرنے والی نریندر مودی حکومت کو بالآخر کسانوں کے احتجاج کے آگے اپنے فیصلے کو تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اچانک ہی قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کردیا کہ ان کی حکومت نے تینوںزرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میںاس تعلق سے ضروری کارروائی کی جائے گی ۔ واضح رہے کہ ان تینوں قوانین کو مخالف کسان قرار دیتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں کسان دہلی کی سرحدات پر گذشتہ ایک سال سے احتجاج کر رہے تھے ۔ ان کے احتجاج کو رسواء کرنے اور بدنام کرنے کی بے طرح کوششیں ہوئیں۔ زر خرید میڈیا کے بکاؤ اینکرس نے انہیں خالصتانی قرار دینے کی کوشش کی ‘ بیرونی طاقتوں کے اشاروںپر کام کرنے کا الزام عائد کیا ‘ انہیں ڈرامہ باز قرار دیا اور کہا گیا کہ احتجاج کرنے والے کسان ہی نہیں ہیں۔ ان تمام تر الزامات و تنقیدوں کے باوجود کسان برادری نے انتہائی صبر و تحمل اور حکمت عملی کے ساتھ اپنا احتجاج جاری رکھا اور حکومت کے ساتھ بات چیت بھی برابر کرتے رہے ۔ حکومت نے قوانین کی واپسی کے سواء ہر مسئلہ پر بات چیت کی شرط عائد کی تھی جبکہ کسان کسی شرط کے بغیر بات چیت کی مانگ کر رہے تھے ۔ آج وزیر اعظم نے نہ صرف قوانین سے دستبرداری کا اعلان کردیا بلکہ انہوں نے قوم سے معذرت خواہی بھی کی ۔ انہوںنے اپنے خطاب میں قوانین کا دفاع بھی کیا اور یہ بھی اعتراف کیا کہ شائد حکومت کی کاوشوں میں کوئی کمی تھی کہ وہ کسانوں کو ان قوانین کی اصلیت اور اہمیت سے واقف کروانے میں ناکام رہے ۔ بحیثیت مجموعی حکومت نے عملا اپنی ناکامی کا واضح اعتراف کیا ہے اور قوم سے معذرت خواہی کرتے ہوئے قوانین سے دستبرداری کا اعلان کردیا ہے ۔ یہ ایک طرف کسانوں کے احتجاج اور ان کے عزم و حوصلے اور صبر و تحمل کی کامیابی ہے تو وہیں حکومت کی سیاسی حکمت عملی کا بھی حصہ ہے ۔ یہ معذرت خواہی اور قوانین کی واپسی کسانوں کیلئے نہیں بلکہ سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے ہے ۔
ہر فیصلہ اور ہر کام سیاسی مقصد براری اور انتخابات میں کامیابی کے مقصد سے کرنے والی حکومت نے قوانین سے دستبرداری پر بھی سیاسی مقاصد ہی کو ترجیح دی ہے ۔ اب جبکہ ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان میںپنجاب اور اترپردیش انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں کسانوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے ۔ شمالی ہند میں حالیہ عرصہ میں بی جے پی کو زرعی قوانین کی وجہ سے سخت عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انتخابات سے قبل بی جے پی عوامی ناراضگی کی متحمل نہیںہوسکتی ۔ اترپردیش اور پنجاب کے کسانوں میں اکثریت سکھ برادری کی ہے ۔ اسی لئے قوانین سے دستبرداری کا فیصلہ کیا گیا اور اس کا اعلان بھی ایسے دن کیا گیا جبکہ ہماری سکھ برادری پہلے گرو ‘ گرو گوبند سنگھ کا یوم پیدائش ( پرکاش اتسو ) منا رہی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں اور کسانوں کی جانب سے مرکزی حکومت سے مسلسل اصرار کیا جا رہا تھا کہ ان زرعی قوانین کو واپس لیا جائے ۔ حکومت نے ایک سے زائد مرتبہ قوانین واپس لینے سے انکار کردیا تھا ۔ گودی میڈیا نے بھی اسے نا ممکن قرار دیا تھا لیکن کسانوں کی طاقت کے آگے ہر ناممکن ممکن ہوگیا ہے ۔ جو حکومت کسی کو خاطر میں لانے تیار نہیں تھی اور من مانی فیصلے عوام پر مسلط کرنے کی عادی ہوچکی تھی اسی حکومت کو اپنے سیاسی مفادات خطرہ میں نظر آئے اور اس نے اپنے فیصلے کو واپس لے لیا ۔ کسان برادری کا احتجاج ہندوستان میں تاریخی نوعیت کا حامل ہوگیا ہے ۔ اسی وجہ سے حکومت نے واپسی کی ہے ۔
یہ احتجاج کی طاقت ہی ہے جس کے نتیجہ میں یہ قوانین واپس لئے گئے ہیں۔ حکومت کو احتجاج کی طاقت کا اندازہ ہوچکا تھا اسی لئے خود ملک کے وزیر اعظم نے احتجاج کرنے والوںکو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ’ آندولن جیوی ‘ قرار دیا تھا ۔ یہ ایک طنز تھا جس کی آج انہوں نے اپنے فیصلے سے واپسی کا اعلان کرتے ہوئے کوئی مدافعت نہیں کی یا ان کے پاس ایسا کرنے کا کوئی جواز بھی نہیں تھا ۔ حکومت کے فیصلے سے ایک پیام ملک کے عوام کے نام بھی ہے کہ وہ اپنی طاقت کو سمجھیں۔ حکومتوں کے غلط فیصلوں کو تسلیم کرنے کی بجائے اس کو اپنے فیصلے درست کرنے کیلئے مجبور کرنے کی طاقت عوام کے پاس ہے اورا سے سمجھنا کی ضرورت ہے ۔
