زمانہ کو برا مت کہو !

   

کسی دن یا مہینے کومنحوس کہنے کا مطلب یہ ہے کہ معاذ اللہ ہم اللہ تعالیٰ کو منحوس کہہ رہے ہیں ، کیونکہ دن اور مہینہ زمانہ کہلاتا ہے اور زمانہ کو برا کہنا درحقیقت اللہ کو بُرا کہنا ہے ، جیساکہ حدیث قدسی میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي الأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے وہ زمانہ کو گالی دیتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں میرے ہی ہاتھ میں سارے اُمورہیں۔ میں ہی رات اوردن کو بدلتا رہتا ہوں ۔(بخاری و مسلم ) 
حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: مجھ پر سابقہ اُمتیں پیش کی گئیں تو ایک نبی گزرنے لگے جن کے ساتھ کثیر تعداد تھی، کسی نبی کے ساتھ گروہ تھا، کسی نبی کے ساتھ دس افراد تھے، اور کسی نبی کے ساتھ پانچ افراد تھے، اور کوئی نبی اکیلا ہی تھا، اُسی دوران میں نے ایک جمِ غفیر دیکھا تو پوچھا: جبرئیل! یہ میری اُمت ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں! بلکہ آپ آسمان کے کنارے کی طرف دیکھیں تو میں نے عظیم جمِ غفیر دیکھا۔ انھوں نے کہا: یہ آپ کی اُمت ہے۔ ان میں سے پہلے ستر ہزار افراد بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ میں نے کہا: کیوں؟ انھوں نے کہا: كَانُوا لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ۔ ’’ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ داغ لگوا کر علاج کراتے تھے، نہ غیر شرعی جھاڑ پھونک کراتے تھے، نہ بد شگونی لیتے تھے اور اپنے رب پر کاملاً توکل کرتے تھے‘‘۔(صحیح بخاری) اس حدیث میں بغیر حساب وکتاب کے جنت میں جانے والوں کی صفات کا تذکرہ ہے کہ وہ کسی چیز کو منحوس نہیں سمجھتے اور وہ اللہ پر مکمل توکل کرتے تھے ۔