زندگی کے آغاز سے لے کر اختتام تک ہر میدان میں قرآن و حدیث ہی معیار ہیں

   

دارالعلوم میں جلسہ درس ختم بخاری شریف، مولانا شیخ حنیف لوہاروی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد 11 فروری (پریس نوٹ) حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحبؒ نے فرمایا کہ اولاد کی زندگیوں کے سنوارنے میں ماں کی دُعاؤں کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ چنانچہ امام بخاری پہلے نابینا تھے، ان کی والدہ محترمہ کی مسلسل دُعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اُنھیں بصارت عطا فرمائی اور اللہ نے اپنے فضل سے بصیرت بھی عطا فرمائی۔ صحیح بخاری کے عنداللہ و عندالنبی اور عندالناس مقبول ہونے کی اصل وجہ امام بخاری کا اخلاص اور للّٰہیت ہے۔ ان خیالات کا اظہار محدث جلیل مولانا شیخ حنیف لوہاروی شیخ الحدیث جامعہ قاسمیہ کھروڈ ، بھروچ گجرات نے دارالعلوم حیدرآباد کے جلسہ تکمیل حفظ قرآن مجید و درس ختم بخاری شریف کے موقع پر کیا۔ مولانا لوہاروی نے مزید کہاکہ امام بخاری نے اپنی کتاب کا آغاز کتاب الایمان سے کیا اور اختتام وزن اعمال پر کیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کی کامیابی کے لئے ایمان، علم اور عقیدہ کی سلامتی ہے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے خطاب میں بتایا کہ قرآن کریم کی آیت شریفہ سے پتہ چلتا ہے کہ عالم دین کی تین اہم ذمہ داریاں (۱) تلاوت آیات (۲) تزکیہ نفس (۳) تعلیم کتاب و حکمت، موجودہ فتنوں کے دور میں ایمان کی حفاظت بہت ضروری ہے اس لئے کہ تعلیم ہی کے ذریعہ نئی نسل میں ارتداد پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ایسا نصاب مرتب کیا جارہا ہے کہ جس سے نئی نسل دین و ایمان سے محروم ہوجائے۔ مولانا محمد انصار قاسمی شیخ الحدیث دارالعلوم حیدرآباد نے اولاً تمام فارغ ہونے والے طلبہ کو مبارکباد پیش کی اور نصیحت کرتے ہوئے کہاکہ آپ حضرات حصول علم سے فارغ نہیں ہوئے ہیں، بلکہ آپ نے آٹھ سالہ نصاب پڑھ کر علم دین سے مناسبت پیدا کی ہے۔ فضیلۃ الشیخ الدکتور سمیرالقاضی رئیس المدرسین فی الجامعۃ العالمیۃ بیروت نے اپنے خطاب میں کہاکہ تمسک بدین اللہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ مولانا محمد منیرالدین عثمانی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نے کہاکہ امام بخاری نے اپنی کتاب کا آغاز قرآن کریم سے کیا اور اختتام بھی قرآن کریم کی آیت کو باب بناکر کیا۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ زندگی کے آغاز و اختتام کا مدار اصل میں قرآن و حدیث پر ہی ہے۔ مولانا احمد عبیدالرحمن اطہر ندوی نے تکمیل حفظ کرنے والے طلباء کو آخری سبق پڑھایا۔ جلسہ کا آغاز مولانا قاری محمد شفیق الرحمن کی قرأت کلام پاک سے ہوا اور مولوی محمد انس نے نعت پیش کی۔ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے اجلاس کی صدارت اور مفتی محمد عظیم الدین جنید انصاری نے نگرانی کی۔ بحیثیت مہمان خصوصی حافظ پیر شبیر احمد، جناب ضیاء الدین نیر، جناب ذیشان ، ڈاکٹر نظام الدین، منیرالدین مختار، مولانا عبدالحمید حسامی، مولانا امیراللہ خان، مولانا عبدالستار، مولانا خواجہ کلیم الدین، مولانا طاہر حسامی اور مولانا غوث محی الدین، جناب سید اسمٰعیل، جناب امیراللہ حسینی المعروف علیم خان کے علاوہ شہر و اضلاع کے دینی مدارس کے ذمہ داران، اساتذہ کرام، ائمہ مساجد اور دینی شخصیات کے علاوہ خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مولانا سید احمد ومیض ندوی استاذ جامعہ نے نظامت کے فرائض انجام دیئے اور شیخ الحدیث مولانا حنیف لوہاروی کی رقت انگیز دعا پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔ اساتذہ کرام و طلباء نے مہمانوں کا استقبال کیا اور انتظامات میں حصہ لیا۔