زکوٰۃ کی فضلیت و اہمیت

   

حافظ محمد خواجہ قادری
اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن زکواۃ بھی ہے قرآن کریم میں اللہ تعالی نے (۸۳) مقامات پر اس کی تاکید کے ساتھ فضیلت و اہمیت کو بتلایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کو بھی نماز کے ساتھ تو کبھی روزے کے ساتھ تو کبھی دیگر اہم اُمور کے ساتھ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر ارشاد فرمایا ہے۔ خصوصاً نماز کے ساتھ زکات کا ذکر (۳۲) مقامات پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا ہے۔ زکوٰۃ عربی لفظ ہے۔ اس کے معنی پاک ہونا یا پاک کرنے کے ہیں اصطلاح شرع میں اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے اور سرکاردو عالم ﷺ کے حکم کے مطابق اپنے مال میں سے جو زکات کا نصاب ہے ادا کرتے ہوئے مستحق مسلمانوں کو مالک بنانا ہے۔ ہر مسلمان عاقل و بالغ صاحب نصاب پر مرد و عورت پر زکات فرض ہے۔ اور اس فرضیت کا انکار کرنے والا کافر ہے۔زکات ادا کرنے سے منع کرنے والا موجب قتل ہے۔ قرآن کریم میں سورہ توبہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’جولوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انھیں دردناک عذاب کی خبر سناد و قیامت کے دن اس سونے اور چاندی پر دوزخ کی آگ دہکائی جائے گی۔ اور اس سے سے ان لوگوں کو داغا جائیگا۔ اور کہاجائیگا کہ یہ وہی خزانہ ہے جس کو تم نے اپنے لئے جمع کر رکھا تھا۔ (اور زکات ادانہ کرتے تھے ) اس کا مزہ چکھو ‘‘۔ زکات کو اسلام کا تیسرا رکن قرار دیا گیا ہے۔
تمام عبادتوں میں در عبادتوں کو اللہ تعالی نے سب سے زیادہ فضیلت دی ہے۔ (وہ ہے نماز اور زکات ) زکات ہر صاحب استطاعت مالداروں پر فرض کی گئی ہے۔حدیث مبارکہ میں زکات کی فضیلت و اہمیت مختلف مقامات پر بیان کی گئی ہے ۔ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا:’’جو اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے مال کی زکات ادا کرے اور حق بولے یا خاموش رہے بری بات اپنی زبان سے نہ نکالے اور جو اللہ ورسول پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے‘‘ اور اسی طرح ایک روایت میں رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’زکات دے کر اپنے مالوں کو مضبوط قلعوں میں (محفوظ) کرلو‘‘۔ ہر مسلمان عاقل و بالغ صاحب نصاب پر خواہ مرد ہو یا عورت زکات فرض ہے۔ اگر بقدر نصاب مال ایک سال تک اس کے پاس رہے تو زکات ادا کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ فرض ہونے کے بعد اس کو ادا نہ کرنے والا فاسق و فاجراور ادا کرنے میں تاخیر کرنے والا گنہگار ہوتا ہے۔