واشنگٹن ۔ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس نے یوکرین کو بارہا خبردار کیا تھا کہ روس حملہ کرنے والا ہے، لیکن یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی یہ بات سننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جمعہ کو لاس اینجلس میں فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے ایسے وقت میں روسی جارحیت کے خلاف یوکرین کی حمایت کا اعادہ کیا جب یوکرین جنگ چوتھے ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔ صدر بائیڈن نے یوکرین جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایسا کبھی نہیں ہوا جو اب یوکرین میں ہو رہا ہے، میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگ کہیں گے کہ میں یہ بات بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہوں۔ لیکن ہمارے پاس ڈیٹا ہے جس کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے تھے کہ پوٹن یوکرین پر چڑھائی کریں گے۔ جنگ کے بعد یوکرین کے صدر کی دلیری اور عزم کو امریکہ سمیت دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے، لیکن جنگ شروع ہونے سے قبل اْن کی تیاری اور تخمینوں کے حوالے سے اْن کی قیادت پر سوال بھی اْٹھائے جاتے ہیں۔ 24 فروری کو روسی حملے سے چند ہفتوں قبل تک یوکرینی صدر عوامی سطح پر اس تشویش کا اظہار کرتے رہے کہ بائیڈن انتظامیہ بار بار یہ وارننگ دے رہی ہے کہ روس یوکرین پر حملہ کرنے والا ہے۔