8ماہ کے دوران 52سائبر مجرمین گرفتار ، پولیس کمشنر کا بیان
حیدرآباد : 29 جنوری ( سیاست نیوز) سائبر جرائم کیخلاف عملاًجنگ چھیڑنے والی حیدرآباد سٹی پولیس نے ایک کارروائی کو انجام دیتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے ۔ سائبر جرائم پرخصوصی توجہ دیتے ہوئے حیدرآباد پولیس نے ایک بڑے آپریشن کو انجام دیا اور 52 سائبر مجرمین کو گرفتار کرلیا ۔ جاریہ ماہ 8 ریاستوں میں اسپیشل آپریشن منعقد کرتے ہوئے سائبر دھوکہ بازوں کو گرفتار کرلیا ۔ کمشنر پولیس حیدرآباد سی وی آنند نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ حیدرآباد سٹی پولیس نے سائبر جرائم پر قابو پاتے ہوئے اور سائبر جرائم کو ختم کرنے کیلئے ایک منصوبہ تیار کیا ہے ۔ چونکہ موجودہ دور میں سائبر جرائم ایک چیالنج بن گیا ہے اور دھوکہ بازوں کا شکار ہونے والے افراد کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں رہی ۔ سائبر دھوکہ باز کم عمر شہریوں کے علاوہ ضعیف العمر افرا دکو بھی نشانہ بنارہے ہیں ۔ پولیس کمشنر نے بتایا کہ گجرات ، کرناٹک ، آندھراپردیش ، نئی دہلی ، اترپردیش ، مہاراشٹرا ، ویسٹ بنگال ، بہار اور حیدرآباد میں خصوصی آپریشن کرتے ہوئے 52افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں بینک ملازمین اور بڑے عہدے پر فائز بینک عہدیدار بھی شامل ہیں ۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ ان دھوکہ بازوں کی گرفتاری سے حیدرآباد کے 33 ، تلنگانہ کے 74 مقدمات اور ملک بھر میں 576 مقدمات کی یکسوئی کرلی گئی ۔ تاہم ریکوری میں پولیس کچھ نہیں کرپائی ، بلکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کرپٹیو کرنسی کو ضبط کیا گیا ۔ سائبردھوکہ بازوں کی جانب سے 85.23 کروڑ روپئے لوٹے گئے جبکہ صرف تین کروڑ روپیوں کو جو بینک کھاتے میں تھے انہیں منجمد کردیا گیا ۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ ٹریڈنگ فراڈ ،ڈیجیٹل فراڈ ، انفوسمنٹ فراڈ ، ڈیٹا فراڈ ، سوشل میڈیا فراڈ ، پارٹ ٹائم جاب فراڈ ، جاب فراڈ و دیگر اقسام کے جرائم شامل ہیں ۔کمشنر پولیس نے تین اہم مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کے نام پر ایک شہری سے 93 لاکھ روپئے لوٹے گئے ۔ واٹس ایپ گروپ میں شامل کرنے کے بعد پہلے 5لاکھ روپئے کی سرمایہ کاری کی ترغیب دی گئی جس کے بعد صرف اسکرین پر فائدہ بناتے ہوئے ایک کروڑ تک سرمایہ کردیا گیا اور جب شکایت گزار نے رقم نکالنے کیلئے زور دیا تو دھوکہ بازوں نے اس کے بینک اکاؤنٹ کو بند کردیا اور رابطہ منقطع کردیا ۔ کمشنر پولیس نے مزید دو مقدمات کی بھی تفصیلات بتائی اور کہا کہ بغیر بینک ملازمین کی مدد کے بغیر سائبر دھوکہ باز کامیاب نہیں ہوسکتے چونکہ سارا لین دین کا معاملہ تمام آن لائن اور بینک کھاتوں کے ذریعہ ہوتا ہے ۔ پولیس نے تحقیقات کیلئے سرچ کیا اور بینک ملازمین کے رول پر توجہ مرکوز کی ۔ گرفتار ان دھوکہ بازوں میں بینک ملازمین بھی شامل ہیں ۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ شوبھر کمار جھا ، ڈپٹی انجنیئر آر بی ایل بینک بنگلورو ، ہارون رشید امام الدین اسسٹنٹ وائس پریسیڈنٹ ایکسیس بینک بنگلور اور کاٹا سرینواس راؤ سلز منیجر کوٹیک بینک کو گرفتار کرلیا جو فرضی بینک اکاؤنٹ کے ذریعہ سائبر دھوکہ بازوں کی مدد کررہے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ بینک ملازمین پر نظر رکھنے کیلئے آر بی آئی کے عہدیداروں سے ایک اجلاس منعقد کیا گیا اور آر بی آئی کے عہدیداروں نے پولیس سے مکمل تعاون کا تیقن دیا ہے اور ڈی سی پی کرائم کی نگرانی میں کمیٹی کے ساتھ کام کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ کمشنر پولیس نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ۔ اس موقع پر ڈی سی پی کرائم کویتا کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔