سائنس و ٹکنالوجی سے ہم آہنگ ہوئے بغیر اقلیتوں کی ترقی ممکن نہیں

   

Ferty9 Clinic

ایم جے کالج میں انڈیا ایجوکیشن کانکلیو کاسائنٹیفک سیشن۔ مہمانوں کی تقاریر

حیدرآباد۔ 15؍جون ( پریس نوٹ ) امریکی حکومت ہر سال امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے لئے ہندوستان کے پچاس مستحق طلبہ کو اسپانسر کرتی ہے جن میں سے 24کا تعلق حیدرآباد سے ہوتا ہے اور مستقبل میں اس تعداد میں اضافہ ممکن ہے۔ یہ بات مسٹر ایرک الیگزینڈرقونصل چیف امریکی قونصل خانہ حیدرآباد نے بتائی۔ وہ آج مفخم جاہ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی میں انڈیا ایجوکیشن کانکلیو کے سائنٹیفک سیشن سے مخاطب تھے۔ ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مندوبین بھی اس موقع پر موجود تھے جن میں پٹنہ کے ممتاز سرجن اور سماجی جہد کار ڈاکٹر احمد عبدالحئی، کمال فاروقی (دہلی) قابل ذکر ہیں۔ جناب ظفر جاوید سکریٹری سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی نے صدارت کی۔ ڈاکٹر فخرالدین محمد نے خیر مقدم کیا۔ جناب اے کے خان نگران تقریب تھے۔مسٹر ایرک الیگزینڈر نے کہا کہ تعلیم کے حصول اور فروغ کے لئے طلبہ کے والدین اور سرپرستوں کا تعاون ضروری ہے۔ اور یہی تعلیمی معیار کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہندوستان کے حالات مختلف ہیں۔ انہوں نے تعلیمی میدان میں ہندوستان کے ساتھ تعلیمی شعبے میں مزید تعاون کا تیقن دیا۔ جناب کمال فاروقی نے کہا کہ 50فیصد مسلم آبادی تعلیمی اعتبار سے پسماندہ ہے۔ مسلم سماج کو ایسے قائدین کی ضرورت ہے جو سوئی ہوئی قوم کو جگا سکے۔ مائناریٹی بلاک جس میں اُترپردیش، بہار، آسام اور مغربی بنگال شامل ہیں‘ یہاں مسلم آبادی 35فیصد ہے۔ یہاں کے مسلمان اپنے تعلیمی معیار کی بدولت ملک میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حصول تعلیم کا طریقہ اور کلاس رومس کا نظریہ بدل گیا۔ مصنوعی ذہانت کلاس روم نے اپنی جگہ پیدا کرچکی ہے۔ اس بدلتے تناظر میں ہم کو بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کے لئے تیار ہونا ہوگا۔ گذشتہ چار برس کے دوران انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اگر ہم نے اپنے آپ کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا تو ہماری حالت اور بھی بگڑ جائے گی۔ ہم معاشرہ میں یکا و تنہا رہ جائیںگے۔ انہوں نے مسلم سماج سے اپیل کی کہ وہ دستیاب وسائل کا استعمال کریں۔ جناب اے کے خان وزیر اقلیتی امور حکومت تلنگانہ نے کہا کہ گذشتہ دس برس کے دوران لڑکیوں میں ترک تعلیم کا رجحان کم ہوا جو خوش آئند علامت ہے۔ بہتر نیٹ ورکنگ سے باہمی فائدہ ممکن ہے۔ ہندوستان مختلف ٹکنالوجیز کے میدان میں ایک طاقت کے طور پر ابھررہا ہے جس کے لئے Main Power کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہندوستان میں ہے۔ معیار اور کھپت کی گنجائش ہندوستان میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی تیزی سے تغیر پذیر دنیا میں کامیابی کا انحصار سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی پر ہے۔ اِن حالات میں اقلیتوں کو غور کرنا ہوگا کہ وہ کیا رول ادا کریںگے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور معیار تعلیم دو الگ الگ رخ ہیں۔ آسام، اُترپردیش، مغربی بنگال میں بنیادی تعلیم کا فقدان ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض علاقوں میں بنیادی تعلیم کی سہولتیں نہیں ہیں۔ اس کے برعکس کیرالا ہندوستان کے لئے ایک مثال ہے۔ ہندوستان میں اقلیتیں ٹکنالوجی کو اختیار کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتیں۔ انہوں نے جامعہ ہمدرد، الامین، اعظم کیمپس جیسے اداروں سے امید ظاہر کی کہ وہ اہم رول ادا کریںگے۔