سابری مالا جانے والے بھکتوں کو جنگلی جانوروں سے خطرہ ، مسجد میں قیام

   

مسجد کے دروازہ پر دستک، صدر مدرسہ و خطیب کی اجازت سے راحت ،مثال قائم

حیدرآباد۔7۔جنوری(سیاست نیوز) مساجد اللہ کا گھر ہیں اور ان میں اللہ کے کسی بھی بندہ کو پناہ دی جاسکتی ہے۔ سابری مالا کے لئے روانہ ہونے والے بھکتوں کو رات دیر گئے کرناٹک کے ایک موضع میں جنگلی جانوروں کے خوف نے پناہ لینے پر مجبور کیالیکن آس پاس کوئی جگہ نہ ہونے پر وہ مسجد کے دروازہ پر جاپہنچے جہاں مسجد و مدرسہ کے انتظامیہ نے سابری مالاکے لئے سفر کررہے 6 بھکتوں کو مسجد میں رات قیام کی اجازت دیتے ہوئے ایک مثال قائم کی ہے۔ریاست کرناٹک کے ضلع کوڈاگو سے کیرالہ کے سفر کے دوران گھنے جنگل سے گذرنے سے خوفزدہ ان بھکتوں نے ہدیٰ جامع مسجد پہنچ کر رات قیام کی اجازت طلب کی جس پر مسجد و مدرسہ کے صدر جناب عثمان اور خطیب جناب قمرالدین انوری نے مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سابری مالا کے لئے جا رہے ان بھکتوں کو مسجد میں قیام کی اجازت دے دی۔ سابری مالا کیرالہ کے لئے روانہ ہونے والے کملیش گوری‘ بھیمپاسنادی‘ شویانند ناویدی‘ گنگادھارا بادیدی‘ اور سدارود سنادی نے بتایا کہ وہ رات دیر گئے بائیک کے سفر سے کیرالہ پہنچنے والے تھے لیکن انہیں جب اس بات کا علم ہوا کہ ویراج پیٹ تعلقہ کے بعدگھنے جنگلات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور ان جنگلوں میں رات دیر گئے جنگلی جانور بالخصوص ہاتھیوں کے جھنڈ نکلتے ہیں تو وہ خوفزدہ ہوگئے ۔ سابری مالا کے لئے نکلنے والے یہ نوجوان رات دیر گئے پناہ حاصل کرنے کے لئے جگہ تلاش کرنے لگے کہ انہیں جامع مسجد ہدیٰ نظر آئی اور وہ مسجد کے دروازہ پر پہنچ کر انتظامیہ کو آواز لگانے لگے جس پر خطیب صاحب نے انہیں مسجد میں اندر آنے کی اجاز ت دینے کے بعد صدر مدرسہ و مسجد سے رابطہ قائم کیا اور ان 6غیر مسلم نوجوانوں کو مسجد میں قیام کی اجازت دی جہاں رات بھر قیام کے بعد صبح یہ نوجوان مسجد سے نکل کر سابری مالا کے لئے روانہ ہوگئے اور انہوں نے جانے سے قبل مسجد کے انتظامیہ سے اظہار تشکر کیا کہ انہیں رات میں جنگل میں بھٹکنے سے محفوظ رکھنے میں ان کی مدد کی گئی ۔3