تہران : ایران کی ایک عدالت نے متحدہ امریکہ کی حکومت اور سابق صدور جارج ڈبلیو بش اور براک اوباما سمیت بعض شخصیات کو دہشت گرد تنظیم داعش کی طرف سے تہران میں 2017 کے حملوں کے حوالے سے تقریباً 313 ملین ڈالر کے معاوضے کی سزا صادر کی ہے۔ایرانی عدالتی میزان نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی حکومت نے سابق صدور اوباما اور بش ،سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ، سینٹرل کمانڈ ، CENTCOM کے سابق کمانڈر ٹومی فرینکس، محکمہ خزانہ ، لاک ہیڈ مارٹن اور امریکن ایئرویز گروپ کے خلاف متاثرین کے اہل خانہ کی طرف سے دائر کیے گئے مقدمے میں امریکی حکام پر “دہشت گرد تنظیم داعش سمیت دہشت گرد گروہوں کی تنظیم بندی اور انتظام میں بنیادی کردار کے حامل ہونے ” کا الزام عائد کیا گیا تھا۔عدالت نے امریکی حکومت اور اس ملک کے اداروں اور عہدیداروں کو دہشت گرد حملوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والوں کے لواحقین کو 9 ملین ساڑھے نو لاکھ ڈالر مالی، 104 ملین ڈالراخلاقی اور 199 ملین ڈالر کے تعزیری جرمانے کی سزا دی ہے۔