سابق بی آر ایس رکن اسمبلی کی قیامگاہ پر دلتوں کا دھرنا

   

دلت بندھو اسکیم کا کمیشن واپس کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد۔/4فروری، ( سیاست نیوز) سابق بی آر ایس دور حکومت میں دلت بندھو اسکیم کے تحت دلت خاندانوں کو فی کس 10 لاکھ روپئے کی امداد فراہم کی گئی تھی۔ اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں ارکان اسمبلی کی جانب سے کمیشن کی وصولی کی شکایات عام ہوچکی تھیں۔ اب جبکہ تلنگانہ میں کانگریس برسراقتدار ہے بی آر ایس کے سابق ارکان اسمبلی کو دلت بندھو اسکیم کے کمیشن کے مسئلہ پر عوامی ناراضگی کا سامنا ہے۔ جنگاؤں کے سابق بی آر ایس رکن اسمبلی ایم یادگیری ریڈی کے فارم ہاوز کا دلت خاندانوں نے گھیراؤ کیا اور کمیشن کی حاصل کردہ رقم واپس کرنے کی مانگ کی۔ عوام نے شکایت کی ہے کہ اسکیم پر عمل آوری کیلئے رکن اسمبلی نے کمیشن حاصل کیا تھا۔ اب جبکہ حکومت کی تبدیلی سے دلت بندھو اسکیم پر عمل آوری کوخطرہ لاحق ہوچکا ہے لہذا دلت خاندان کمیشن کی رقم واپس کرنے کی مانگ کررہے ہیں۔ دو منڈلوں سے تعلق رکھنے والے متاثرین نے ایم پی پی کرشنا ریڈی کی قیادت میں احتجاج کیا۔ احتجاجیوں نے کہا کہ دلتوں کی بھلائی کیلئے کے سی آر نے دلت بندھو اسکیم متعارف کی لیکن ارکان اسمبلی نے 62 استفادہ کنندگان سے فی کس ایک لاکھ روپئے کمیشن حاصل کیا تھا۔ انہوں نے کمیشن کی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سابق رکن اسمبلی سے ملاقات کی کوشش کی۔ رکن اسمبلی کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی لوگ جمع ہوگئے لیکن انہیں یہ کہتے ہوئے واپس بھیج دیا گیا کہ یادگیری ریڈی فارم ہاوز میں نہیں ہیں۔ متاثرین نے انتباہ دیا کہ وہ حیدرآباد میں سابق رکن اسمبلی کی قیامگاہ پر دھرنا دیں گے۔ اسی دوران یادگیری ریڈی نے کمیشن حاصل کرنے کے الزامات کو مسترد کردیا اور اسے سیاسی سازش قرار دیا۔1