سابق حکومت بی آر ایس نے ریاست کو کنگال بنادیا

   

کانگریس قائد سابق وزیر ڈاکٹر چندر شیکھر کا الزام، جامع سروے میں حصہ لینے عوام سے اپیل
کوہیر۔ 17؍نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ ’’جس کی جتنی آبادی، ان کی اتنی حصہ داری‘‘ قائد اپوزیشن لوک سبھا راہول گاندھی نے ایک نعرہ دیتے ہوئے بی سی سروے کے لئے ملک میں مہم چلانے ایک مصمم ارادے کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے اس مقصد کے ساتھ ریاست بھر میں بی سی سروے کے پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر اے چندرا شیکھر سابق وزیر و انچارج کانگریس پارٹی حلقہ اسمبلی ظہیرآباد نے صحافتی برادری کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ جامع سروے میں اپنے ناموں کے ساتھ جملہ تفصیلات کا اندراج کروائیں اور اس میں ہرگز لاپرواہی نہ کریں۔ انھوں نے بی جے پی اور بی آر ایس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی سی طبقہ کو ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا جارہا ہے۔ انھوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین میں ہمت ہو تو بی جے پی ملک میں جہاں جہاں برسراقتدار ہے، وہاں پر اس طرح کا سروے کروائیں۔ بی جے پی ایسا ہرگز نہیں کرا سکتی۔ ڈاکٹر چندرا شیکھر نے مزید کہا کہ بی آر ایس پارٹی 10 برسوں میں اپنی بدعنوانیوں کی وجہ سے مالی اعتبار سے مستحکم تلنگانہ ریاست کو 5 لاکھ کروڑ روپئے سے زائد کے قرض میں ڈبودیا اور ریاست تلنگانہ کو ایک مقروض و کنگال ریاست میں تبدیل کردیا ہے۔ دیہی سطح پر ترقیاتی کام ٹھپ ہوگئے ہیں۔ ہر جگہ سڑکیں پوری طرح خستہ ہال ہوگئی ہے۔ مشن کاکتیہ اور مشن بھاگیرتا کے نام پر کروڑہا روپیوں کا غبن کیا گیا ہے۔ انھوں نے ٹی ہریش راؤ رکن اسمبلی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ظہیرآباد کے عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھاتے ہوئے صرف یہاں پر سنگ بنیاد تک سے محدود رکھا۔ انھوں نے اسمبلی کے عام انتخابات کے پیش نظر مسلمانوں کو خوش کرنے کی غرض سے ظہیرآباد میں منی حج ہاؤس، مسلم شادی خانہ کے علاوہ بوچنلی موضع میں مسلمانوں کو 10 ایکر اراضی دینے تیقن دے کر ان تمام وعدوں کو فراموش کردیا اور اس کے علاوہ ظہیرآباد کے تمام میں واقع سی ایس آر فنڈ جوکہ ظہیرآباد کی ترقی کے لئے استعمال ہونا تھا۔ اس کو سدی پیٹ کے لئے استعمال کیا ہے اور ظہیرآباد کے تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار ہوکر ذریعہ معاش کے لئے در بدر بھٹک رہے ہیں جب کہ یہاں پر کئی صنعتیں موجود ہیں۔