سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین

   

مشہد؍تہران ۔ 9 جولائی (ایجنسیز) ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی چھ روزہ آخری رسومات جمعرات 9 جولائی کو ختم ہوگئی۔ ن کا تابوت عراق کے مقدس شہر نجف سے ایران کے شہر مشہد منتقل کیا گیا، جہاں انہیں امام رضا کے روضہ مبارک میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے سربراہ محمد محمدی گلپایگانی کے مطابق، مرحوم نے اپنی زندگی میں وصیت کی تھی کہ انہیں ان کے آبائی شہر مشہد میں آٹھویں شیعہ امام، حضرت امام رضا ؓ کے مزار کے احاطے میں دفن کیا جائے۔ گزشتہ چھ روز کے دوران ایران اور عراق میں لاکھوں افراد نے آخری رسومات میں شرکت کی۔ تہران اور قم میں بڑے جلوسوں کے بعد تابوت کو عراقی مذہبی رہنماؤں کی درخواست پر نجف منتقل کیا گیا جہاں چہارشنبہ کو نجف اور کربلا میں ہزاروں سوگواروں نے آخری دیدار کیا۔ عراقی حکومت نے ان تقریبات کے پیش نظر چہارشنبہ کو عام تعطیل کا اعلان بھی کیا تھا۔عراق میں جلوس طویل ہونے کے باعث مشہد میں تدفین کی تقریب کا وقت بھی تبدیل کرنا پڑا۔ ابتدائی طور پر تدفین صبح 6 بجے (ایرانی وقت) طے تھی تاہم بعد میں اسے دوپہر 2 بجے تک مؤخر کر دیا گیا۔ ادھر ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے تہران اور مشہد کے درمیان ریلوے لائن کے ایک حصے پر حملہ کیا، جس کے بعد اس اہم روٹ پر مسافر ٹرین سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔میڈیا کے مطابق ایرانی ریلوے حکام نے بتایا کہ متاثرہ ٹریک کی مرمت کے لیے تکنیکی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں جبکہ پھنسے ہوئے مسافروں کو سڑک کے راستے مشہد منتقل کرنے کے انتظامات کیے گئے۔واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر ہونے والے ابتدائی امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اپنے خاندان کے متعدد افراد اور اعلیٰ ایرانی حکام کے ساتھ شہید ہوگئے تھے۔آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات اور تدفین میں لاکھوں افراد کے علاوہ مختلف ممالک کے وفود نے بھی شرکت کی۔ ان کی تدفین ایسے وقت میں ہو ئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر بڑے تنازعہ کے خدشات کو جنم دے رہی ہے۔