گریٹر حیدرآباد میں بھاجپا کی کامیابی سے سیاسی حالات میں تیزی سے تبدیلیوں کا آغاز
نرمل : دوباک اسمبلی حلقہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی اور گذشتہ ہفتہ حیدرآباد میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے شاندار مظاہرہ کے بعد اب اضلاع میں بھی بڑی تیزی سے سیاسی حالات تبدیل ہورہے ہیں ۔ دو دن قبل ہی نرمل بلدیہ کے سابق صدرنشین مسٹر اے گنیش چکراوتی نے اپنے حامیوں کے ساتھ حیدرآباد میں پارٹی ہیڈ کوارٹر پر صدر بنڈی سنجے بھارتیہ جنتا پارٹی اور نظام آباد کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند سے ملاقات کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ۔ ان کے ہمراہ نرمل ضلع کے سینئر بی جے پی قائدین بھی موجود تھے ۔ ان کی پارٹی میں شمولیت کے بعد وہ نرمل پہنچنے پر حلقہ اسمبلی نرمل کے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے ٹول پلازا سے ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے بائیک ریالی کے ذریعہ نرمل لایا گیا ۔ مسٹر اے گنیش چکراورتی نے نرمل پہنچنے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمراں جماعت کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنا اور عوام کو انصاف دلانا یہی مقصد کو لیکر میں نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کے استحکام کیلئے اپنے آپ کو وقف کردیں گے ۔ عوامی خدمت اور عوامی مسائل کی یکسوئی ہی میرا نصب العین ہوگا ۔ اس موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر مقامی قائدین اے بھومیا ، آر رام ناتھ وغیرہ شامل تھے ۔ واضح رہے کہ اے گنیش کے دادا اے نرسیا آنجہانی نرمل بلدیہ کے صدر رہ چکے ہیں جبکہ ان کی چاچی بھی بلدیہ نرمل کی صدر رہ چکی ہیں ۔ بلدیہ نرمل پر ان کے خاندان کے تین افراد صدرنشین بلدیہ رہ چکے ہیں ۔ اب ان کی بی جے پی میں شمولیت اس بات کا اشارہ کرتی ہے کہ وہ عوام کے درمیان رہتے ہوئے آئندہ عام انتخابات میں حلقہ اسمبلی نرمل سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار ہوں گے ۔ یہاں یہ بتانا بے محل نہ ہوگا کہ متحدہ ضلع عادل آباد میں آئے دن سیاسی حالات بدل رہے ہیں ۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات گشت کررہی ہے کہ آئندہ ماہ بڑے پیمانہ پر سیاسی قائدین بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے کی تیاری کررہے ہیں جس میں سرفہرست سابق رکن پارلیمنٹ مسٹر رمیش راتھوڑ ، سابق رکن اسمبلی ثمن راتھوڑ کا نام سامنے آرہا ہے ۔