سابق چیف منسٹر کے سی آر کے کیمپ آفس پرگتی بھون سے کمپیوٹرس کا سرقہ

   

سی سی کیمروں میں سرقہ کی واردات قید ، حکومت کی تبدیلی سے سابق حکمران جماعت میں ہئیبت طاری
حیدرآباد۔10جنوری(سیاست نیوز) ریاست کے مختلف سرکاری دفاتر سے فائلس ‘ کمپیوٹرس‘ ہارڈ ڈسک کے سرقہ کی اطلاعات و شکایات کے بعد اب سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے کیمپ آفس ’پرگتی بھون‘ سے 4کمپیوٹرس اور ہارڈ ڈسک کے سرقہ کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ پرگتی بھون کے سی سی ٹی وی کیمروں میں کمپیوٹرس کی منتقلی کے مناظر قید ہیں جو کہ ریاست میں انتخابی نتائج کے ساتھ ہی منتقل کئے جارہے تھے؟ حکومت تلنگانہ کے مختلف محکمہ جات بالخصوص محکمہ بلدی نظم ونسق‘ محکمہ تعلیم ‘ محکمہ سیاحت کے علاوہ محکمہ آبپاشی کے علاوہ محکمہ افزائش مویشیاں میں سرقہ کی کوشش کی شکایات کے بعد اب پرگتی بھون سے فائیلوں کو غائب کرنے کے علاوہ کمپیوٹر اور ہارڈ ڈسک کی منتقلی کی اطلاعات کے بعد عہدیداروں میں بے چینی پیدا ہونے لگی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی محکمہ سیاحت کے دفتر میں آگ‘ محکمہ تعلیم کے دفتر سے دستاویزات کی منتقلی ‘ محکمہ افزائش مویشیاں سے فائیلس کے سرقہ ‘ محکمہ سیاحت کے دفتر سے سامان کی منتقلی کی کوشش کے بعد گذشتہ دنوں میدی گڈہ بیاریج کالیشورم کے دفتر سے کمپیوٹرس کے سرقہ کی اطلاع کے بعد آج اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ سابق چیف منسٹر کی قیامگاہ ’پرگتی بھون ‘ سے بھی کمپیوٹرس منتقل کئے گئے ہیں اور اس منتقلی کے مناظر سی سی ٹی وی کیمروں میں قیدہیں جن کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ کالیشورم پراجکٹ میدی گڈہ سے متعلق فائلس اور کمپیوٹرس کے سرقہ کی اطلاعات کے ساتھ ہی ریاستی ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ کے ذمہ داروں نے سرقہ کئے گئے سامان کے متعلق معلومات کے حصول اور دفتر کا معائنہ کرتے ہوئے تفصیلات اکٹھا کرنے کے علاوہ تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ ریاست میں کانگریس کے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی یہ کہا جا رہاتھا کہ ریاست میں نئی حکومت کی جانب سے سابقہ حکومت کی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کی جامع تحقیقات کروائی جاسکتی ہیں۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ تمام دھاندلیوں اور بدعنوانیوں کی تحقیقات کے بعد کاروائی کریں گے۔ اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی مختلف سرکاری محکمہ جات میں جاری سرقہ کی وارداتوں اور فائیلس کے غائب ہونے کی شکایات کا اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے جائزہ لیا جا رہاہے۔ شہر حیدرآباد میں فارمولہ ۔ ای ریس اور ای۔ پریکس کی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد طلب کی گئی فائل کا مشاہدہ کرنے کے بعد کمپنی کو 56کروڑ روپئے کی رقم جاری کئے جانے کا انکشاف ہوا تھا جس پر ریاست کے سینیئر آئی اے ایس عہدیدار مسٹر اروند کمار کو میمو جاری کیا گیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ کے مختلف محکمہ جات میں ہونے والی بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کے سلسلہ میں ریاستی حکومت نے دیانتدار عہدیداروں کو سرگرم کرتے ہوئے ان سے تفصیلات کے حصول کا آغاز کردیا ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے کہ ریاست کے کن محکمہ جات میں فائلس کو تلف کرنے اور کمپیوٹرس کے سرقہ اور ہارڈ ڈسک کو ضائع کرنے کے علاوہ ریکارڈس تلف کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کے عہدیداروں نے محکمہ برقی ‘ محکمہ آبپاشی ‘ محکمہ بلدی نظم و نسق کے علاوہ محکمہ تعلیم پر خصوصی نظر رکھے ہوئے ہے۔3