وزارت داخلہ کے احکام پر مستعدی ۔ کشمیر سے متعلق فیصلے کے بعد سوشیل میڈیا پر بھی کڑی نظر
حیدرآباد۔ 5 اگست (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر میں دو حصوں میں بانٹنے اور دفعہ 370 کو ختم کئے جانے کے پیش نظر تلنگانہ ریاست بالخصوص حیدرآباد میں پولیس کو چوکس کردیا گیا ہے۔ مرکزی وزارتِ داخلہ کے احکامات کے پیش نظر ریاستی پولیس مشنری فوری چوکس ہوگئی ہے اور سکیورٹی کے موثر انتظامات کئے جارہے ہیں۔ آرٹیکل 370 کی برخاستگی کے بعد ریاستی پولیس نے چوکسی اختیار کرلی اور ڈائرکٹر جنرل پولیس تلنگانہ ایم مہیندر ریڈی نے ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور تمام کمشنران کی ایک وائرلیس سیٹ کانفرنس منعقد کی اور کشمیر کے موجودہ حالات کے پیش نظر چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر جیتندر نے کہا کہ تلنگانہ میں پولیس کو چوکس کردیا گیا ہے اور حساس علاقوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کئے گئے ہیں۔ حیدرآباد میں پولیس کمشنر انجنی کمار نے اپنے ماتحتین کا خصوصی اجلاس منعقد کرکے دفتر کمشنر پرانی حویلی میں حالات کا جائزہ لیا۔ شہر کے مختلف مقامات پر تلاشی کیلئے چیک پوسٹ قائم کئے گئے ہیں اور ڈپٹی کمشنر پولیس رتبہ کے عہدیداروں کو بعض پولیس اسٹیشنس کا انچارج بنایا گیا ہے۔ کمشنر پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ شہر کے پانچ زونس میں پرسکون ماحول ہے اور سٹی پولیس عہدیدار پرانے شہر میں کیمپ کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس گشت میں شدت پیدا کردی گئی اور مشتبہ افراد کی نقل حرکت پر نظر رکھی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں معمول کے حالات ہونے کے سبب 144 سیکشن نافذ نہیں کیا جارہا ہے جبکہ غیرمجاز نکالی جانے والی ریالیوں، جلوس پر پابندی ہے۔ جموں و کشمیر کی صورتحال کے پیش نظر سوشیل میڈیا پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے اور افواہ یا غلط اطلاعات پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔