سدی پیٹ رعیتو بازار میں گوشت سے تیار کردہ اشیاء کی فروختگی

   

نیشنل میٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں سیلف خواتین کی تربیت ، ٹی ہریش راؤ کے ہاتھوں افتتاح
حیدرآباد۔11ڈسمبر(سیاست نیوز) گوشت سے تیار کی جانے والی اشیاء اب سدی پیٹ رعیتو بازار میں فروخت کیلئے پیش کی جانے لگی ہیں اور ان میں گوشت کا اچار بالخصوص چکن اور مٹن کے اچار کے علاوہ دیگر چکن سے تیار کی جانے والی اشیاء کی فروخت یقینی بنائی جا رہی ہے جس کا افتتاح ریاستی وزیر فینانس مسٹر ٹی ہریش راؤ نے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سیلف ہیلپ گروپ سے تعلق رکھنے والی خواتین نے نیشنل میٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ (حیدرآباد) میں 4 روزہ تربیت حاصل کرنے کے بعد ’’میٹ آن وہیل‘‘ شروع کیا ہے اور انہیں رعیتو بازار میں فروخت کی اجازت فراہم کرنے کے علاوہ ریاستی حکومت کی جانب سے مالی تعاون بھی کیا جا رہاہے جس کے ذریعہ وہ اپنی آمدنی میں اضافہ کے علاوہ اپنے منصوبہ کو مزید وسعت دے سکتی ہیں۔ مسٹر ہریش راؤ نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں 90 فیصد آبادی گوشت خور ہے اور خواتین نے پہلے دن 15 ہزار روپئے مالیت کی گوشت سے تیار کردہ اشیاء فروخت کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ بازار میں گوشت سے تیار کردہ اشیاء کی طلب ہے اور وہ اس طلب کو پورا کرنے کی ممکنہ کوشش کریں گی جس کے ذریعہ انہیں بھی معاشی استحکام حاصل ہوگا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اس منصوبہ کی حوصلہ افزائی کیلئے مسٹر ہریش راؤ نے ’’میٹ آن وہیل‘‘ کا افتتاح انجام دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت خواتین کو خود مکتفی بنانے کے علاوہ انہیں روزگار سے مربوط کرنے کیلئے متعدد اقدامات کررہی ہے جس میں یہ منصوبہ کافی کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ سیلف ہیلپ گروپ سے وابستہ ان خواتین نے بتایا کہ وہ اپنی اس تجارت کو مزید وسعت دینے کے سلسلہ میں اقدامات کررہی ہیں اور جلد ہی وہ سدی پیٹ کے باہر بھی اپنے یہ یونٹس شروع کرنے کے سلسلہ میں غور کریں گی۔ ریاستی وزیر فینانس مسٹر ٹی ہریش راؤ نے ان خواتین کی جانب سے تیار کردہ گوشت کے اچار کا ذائقہ چکھنے کے بعد کہا کہ یہ گوشت کے اچار واقعی لذیذ ہیں اور انہیں یقین ہے کہ چکن کے ذریعہ تیار کی جانے والی اشیاء بھی جو اس گاڑی میں فروخت کی جا رہی ہیں وہ بھی ذائقہ کے اعتبار سے انتہائی لذیذ ہوں گی۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے رعیتو بازار میں ان خواتین کی جانب سے تیار کردہ اشیاء کی فروخت کے لئے جگہ کی فراہمی کے اقدامات کئے جائیں گے جہاں پر مناسب قیمتوں میں یہ خواتین انتہائی لذیذ اشیاء کی فروخت انجام دیں گی جو کہ ان کے خاندانوں کے لئے منافع بخش ثابت ہوگا۔