سرحدی تنازعہ پر ہندوستان کے مطالبات پر چین کا سخت رد عمل

   

بیجنگ : چین کا کہنا ہے کہ فریقین کو طویل المدتی نقطہ نظر اختیار کر کے دو طرفہ تعلقات میں سرحدی مسئلے کو مناسب مقام پر رکھنا چاہیے۔ نئی دہلی کو اس موقف سے اعتراض ہے، اور پہلے سرحدی تنازعہ کو حل کرنے پر زور دے رہا ہے۔ ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تنازعہ کے حوالے سے وزیر دفاع کے بیان کے دوسرے روز چین نے نئی دہلی کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سرحد پر اختلافات کو معمول کے مطابق منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ جمعہ 28 اپریل کو نئی دہلی میں چینی سفارت خانے کی طرف جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چین اور ہندوستان کے درمیان اختلافات سے کہیں زیادہ مشترکہ مفادات پائے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ چینی وزیر دفاع جنرل لی شانگفو شنگھائی تعاون تنظیم کے وزراء دفاع کے اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی میں ہیں۔ گزشتہ روز ان کی ہم منصب راج ناتھ سنگھ سے دوطرفہ بات چیت ہوئی تھی۔ واقعہ گلوان کے بعد دونوں کے درمیان یہ پہلی میٹنگ تھی۔ دونوں وفود کی ملاقات کے بعد وزارت دفاع نے سرحدی تنازعہ سے متعلق ہونے والی بات چیت پر اپنا ایک سخت بیان جاری کیا تھا، جس کا جواب چینی سفارت خانے کی جانب سے آیا ہے اور یہ موقف کے عین برعکس ہے۔ چینی سفارت خانے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا، دونوں فریقوں کو طویل مدتی نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے، دو طرفہ تعلقات میں سرحدی مسئلے کو مناسب مقام پر رکھنا چاہیے اور سرحدی صورتحال کو معمول کی جانب منتقل کرنے کی کوشش کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔