سرحد پر چین کے 60 ہزار فوجی تعینات ، صورتحال سنگین

   

امریکہ ،ہندوستان کی مدد کیلئے تیار : پومپیو ۔ چین کی علاقائی دہشت گردی جارحیت پسندی ناقابل برداشت : امریکی قومی سلامتی مشیر

واشنگٹن: امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا کہ چین نے ہندوستان کی ہمالیائی سرحد پر 60,000 فوجی تعینات کئے ہیں۔ دو ممالک کے درمیان کشیدگیوں میں خوفناک اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سرحدیں اس وقت سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ چین کے جارحانہ موقف کے پیش نظر اس ملک کے ساتھ بات چیت ہرگز نہیں ہوسکتی۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم تمام کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ چین کے ساتھ بات چیت کا دور ختم ہوچکا ہے۔ پومپیو نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔ چین کے ساتھ ہندوستان کی جنگ کی صورت میں امریکہ اپنے حلیف ملک کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے مدد کرے گا۔ شمالی علاقوں میں ہندوستان کے خلاف بڑے پیمانے پر چین نے فوج کی تعیناتی شروع کردی ہے۔ ہندوستان اور چین دونوں کی افواج کے درمیان ماہ جون میں دوبدو ہاتھا پائی ہوئی تھی جس میں ہندوستان کے 20 سپاہی شہید ہوئے تھے۔ اس جھڑپ میں چین کے سپاہیوں کی نامعلوم تعداد بھی ہلاک ہوئی تھی۔ پومپیو نے کہا کہ ساری دنیا بیدار ہوچکی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں ایک اتحاد بنایا جائے گا جو چین کے خطرات سے نمٹے گا۔ چین نے ہندوستان کی حقیقی خط قبضہ (ایل اے سی) پر بڑے پیمانے پر فوجی تیاریاں کرتے ہوئے جنگ جیسی صورتحال پیدا کردی ہے۔ ٹوکیو میں منعقدہ کواڈ کے اجلاس کے بعد پہلی مرتبہ چین کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پومپیو نے کہا کہ چین اپنے پڑوسیوں اور اپنے شراکت داروں کیلئے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ لداخ میں ایل اے سی پر سرحد کے اُس پر چین کی سرگرمیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ہماچل پردیش کے دھرم شالہ میں قیام پذیر تبت کے ممتاز جہد کار تینزن سوندو نے کہا کہ ایل اے سی پر صورتحال تشویشناک ہے۔ سرما کے موسم میں چین ناعاقبت اندیش کارروائی کرسکتا ہے۔ امریکی قومی سلامتی مشیر رابرٹ او برائن نے کہا کہ چین کی علاقائی دہشت گردی اور جارحیت پسندی اب زیادہ دن برداشت نہیں کی جائے گی۔ دنیا کو آنکھ کھول کر دیکھنا چاہئے کہ چین نے اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات کو کشیدہ بنا لیا ہے۔ چین کی پیپلز لبریشن آرمی، بحری اور فضائی طاقت پڑوسیوں کو دھمکانے کیلئے فوجی مشقیں کررہے ہیں۔