سرحد پر ہتھیاروں کے ذخیرہ اندوزی میں اضافہ

   

Ferty9 Clinic


درکار گولہ بارود و ہتھیاروں کی منتقلی میں تیزی ، ہند ۔ چین کشیدگی کے بعد اقدامات
حیدرآباد۔ ہندستان سرحدی کشیدگی کے دوران ہتھیار اور گولہ بارود کی ذخیرہ اندوزی پر توجہ دینے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ ہندستانی محکمہ دفاع کی جانب سے 10 یوم شدید جنگ کے ساز و سامان کے ذخیرہ کے بجائے 15 یوم تک کی شدید جنگ کے ساز و سامان ذخیرہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور محکمہ دفاع کی جانب سے کئے گئے اس فیصلہ کے بعد سرحد پر درکار گولہ بارود اور ہتھیارکی منتقلی کا عمل تیز کیا جاچکا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ دفاع کی جانب سے مشرقی لداخ میں چین کی جانب سے کی جانے والی مداخلت کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور محکمہ دفاع نے افواج کو بیک وقت دو محاذوں پر جنگ کی تیاری کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے 10یوم کے بجائے 15 یوم کے اسلحہ اور بارود کو جمع کرنے کی منصوبہ بندی کرنی شروع کردی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ اسلحہ اور بارود کو جمع کرنے کیلئے کچھ وقت درکار ہوگا اوران حالات میں شدت کے ساتھ جنگی تیاریوں کے لئے بعض ہتھیار و اسلحہ بیرون ملک سے بھی منگوائے جا رہے ہیں اسی لئے یہ عمل وقت طلب ہے۔ افواج کی جانب سے ممکنہ تیاری کرتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ افواج جنگ کیلئے ہمیشہ تیار ہوتی ہیں اور ان کے پاس 10 یوم کی جنگ جتنا اسلحہ اور بارود ہمہ وقت موجود رہتا ہے جو کہ وار ویسٹیج ریزرو کی منظوری کے مطابق ہے۔ سابق لیفٹیننٹ جنرل مسٹر وی کے چترویدی نے بتایا کہ ایک وقت تھا کہ جب ہندستانی افواج کے پاس 40 یوم کی جنگ کا اسلحہ ہمیشہ موجود رہا کرتا تھا لیکن بتدریج اس میں کمی لاتے ہوئے اسے 10 یوم کی جنگ تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا مگر سابق مرکزی وزیر دفاع مسٹر منوہر پاریکر نے اڑی حملہ کے بعد اسلحہ اور بارود کے ذخیرہ میں اضافہ کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے اس بات پر توجہ مبذول کروائی تھی کہ سرحد پر کشیدگی کی صورت میں 15یوم جنگ کی صورتحال اور مقابلہ کی تیاری کی جانی چاہئے اور اب جبکہ چین سے متصل سرحد پر جاری کشیدہ صورتحال کے دوران حکومت کی جانب سے محکمہ دفاع کے ان تجاویز پر عمل آوری کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ آئندہ دنوں کے دوران سرحدی علاقوں میں اسلحہ اور گولہ بارودجمع کرنے کے علاوہ ان کی ذخیرہ اندوزی کیلئے محفوظ گودام اور ان میں کم از کم 15یوم کی جنگ کا ساز و سامان رکھے جانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور یہ عمل مشرقی لداخ میں شروع کردیا گیا ہے اور ہندستانی افواج کے ذرائع کا کہناہے کہ یہ معمول کی کاروائی ہے اور اس کاروائی کا مطلب جنگی تیاری نہیں بلکہ اسلحہ کی ذخیرہ اندوزی میں اضافہ ہے۔