سردار محل کو سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے کی تجویز

   

حیدرآباد ۔ 6 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد کے تاریخی چارمینار کے قریب ایک مشہور عمارت ہے جسے سردار محل کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ ریاستی حکومت سردار محل کو بحال کرتے ہوئے سیاحتی مرکز اور آرٹ گیلری بنانے کا منصوبہ بنارہی ہے جس میں ایک کیفے کو بھی شامل کرنے کا ارادہ ہے ۔ جس سے سیاحوں کو پر لطف ماحول ملے گا ۔ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ان کاموں کی نگرانی کررہی ہے جب کہ ایک نجی ایجنسی کو بحالی کا کام دیا گیا تھا ۔ سردار محل میں راجستھان کے نیمرانا فورٹ پیالیس کی طرز پر آرٹ گیلری ، کیفے اور ہیرٹیج رہائش ہوگی اور اس پراجکٹ کے لیے 30 کروڑ کی لاگت آرہی ہے جسے حکومت نے منظوری بھی دیدی ۔ اس پراجکٹ کی تکمیل کے بعد پرانے شہر کی پرکشش مقامات میں سے ایک ہوگا ۔ اس پراجکٹ کو گزشتہ دو ماہ سے کام کو روک دیا گیا ۔ جس کی وجہ بلز کی عدم اجرائی بتائی جارہی ہے ۔ گزشتہ سال حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس پراجکٹ کا 70 فیصد کام تکمیل ہوچکا ہے اور باقی 30 فیصد کام تین ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا ۔ لیکن اب یہاں کی زمینی صورتحال کافی مختلف ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے بلوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے کام کو روک دیا ہے ۔ سردار محل کو یوروپی طرز پر نظام ششم میر محبوب علی خاں نے 1900 ء میں تعمیر کروایا تھا ۔ میر محبوب علی خاں نے یہ محل ان کی ایک عزیزہ سردار بیگم کے لیے بنوایا تھا لیکن سردار بیگم نے اس محل میں رہنے سے انکار کردیا تھا یہ عمارت ان کی توقعات کو پورا کرنے میں ناکام دکھائی دیا جس کی وجہ سے سردار بیگم نے محبت کی اس نشانی کو قبول کرنے اور یہاں رہنے سے انکار کردیا تھا ۔ میر محبوب علی خاں نے اس محل کو سردار بیگم کی یاد میں سردار محل رکھا ۔ سردار محل کو ہیرٹیج کنزرویشن کمیٹی اور انڈین نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل نے ہیرٹیج عمارت قرار دیا تھا ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشننے پراپرٹی ٹیکس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے اس محل کو اپنے قبضے میں کردیا تھا اور اس محل میں گذشتہ کئی سال سے حکومت کے سرکاری کام جاری تھے ۔ اب شہر کی عوام کو اس عمارت کی تکمیل کا انتظار ہے اور امید کی جارہی ہے کہ مارچ 2025 تک اس کام کو تکمیل کرلیا جائے گا ۔ جس کے لیے حکومت کی خصوصی دلچسپی ہونی ضروری ہے ۔۔ ش