سردی کی لہر کے بعد موسمی بیماریوں میں اضافہ ریکارڈ

   

سرکاری اور خانگی دواخانوں سے مریضوں کی کثیر تعداد رجوع، احتیاطی تدابیر اختیار کرنے ماہرین طب کا مشورہ
حیدرآباد۔15۔ڈسمبر(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں سردی کی لہر میں اضافہ کے ساتھ ہی موسمی بیماریوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور دونوں شہرو ںکے سرکاری دواخانوں کے ساتھ ساتھ خانگی دواخانوں سے رجوع ہونے والے مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ ڈاکٹرس کے مطابق سردی کی لہر میں اضافہ کے ساتھ ہی سردی ‘ کھانسی ‘ نزلہ ‘ زکام‘ سردرد ‘ اعضاء شکنی ‘ بخار اور دمہ کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ سرکاری دواخانوں کے ذمہ داروں کے مطابق شہر حیدرآباد میں عثمانیہ دواخانہ ‘ کورنٹی (فیور ہاسپٹل) ‘ گاندھی ہاسپٹل کے علاوہ شہر کے مختلف علاقوں میں چلائے جانے والے ایریا ہاسپٹلس میں آؤٹ پیشنٹ مریضوں کی آمد میں اضافہ ریکارڈ کیاجانے لگا ہے علاوہ ازیں خانگی دواخانوں میں بھی مذکورہ بیماریوں کے ساتھ مریض رجوع ہونے لگے ہیں ۔ ماہر اطباء کا کہناہے کہ موسم سرما کی شدت میں ہونے والے اضافہ کے دوران شہریوں کو کان ‘ گردن‘ اور سر کی حفاظت کرنی چاہئے کیونکہ سردی کا اثر جسم کے ان حصوں پر فوری ہونے لگتا ہے جس کے نتیجہ میں سردی کھانسی ‘ بخار اور دیگر موسمی امراض کا خطرہ لاحق ہوتا ہے ۔ محکمہ صحت کی جانب سے ریاست میں سردی کی لہر میں اضافہ کے ساتھ ہی شہریوں کے لئے انتباہ جاری کرتے ہوئے انہیں سردی کی شدت میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی جاچکی تھی اور اب دوبارہ تلنگانہ میں سردی کی لہر میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کے بعد مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ آئندہ ہفتہ کے دوران موسمی امراض کا شکار مریضوں کی مجموعی تعداد میں 30 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔اطباء نے اس موسم کے دوران پھیپڑے اور قلب کے عوارض میں مبتلاء مریضوں کو بھی احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں سانس لینے میں تکلیف یا دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تو ایسی صورت میں وہ فوری طور پر اپنے معالج سے رجوع کرتے ہوئے علاج پر توجہ مرکوز کریں۔3