خانگی اسکولس میں 15 فیصد کوٹہ داخلے حکومت کریں ، کونسل میں کودنڈا رام کا خطاب
حیدرآباد ۔ 26 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : رکن قانون ساز کونسل پروفیسر کودنڈا رام نے تعلیمی نظام میں پائے جانے والے مسائل کو حل کرنے پر خصوصی توجہ دینے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ سرکاری اسکولس میں اپرپرائمری کلاسیس شروع کرنے کا مشورہ دیا ۔ کونسل میں آج تعلیم پر منعقدہ خصوصی مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ یو پی اے کے دور اقتدار میں حق تعلیم کا قانون منظور کیا گیا ۔ خانگی اسکولس میں 15 فیصد غریب بچوں کو داخلہ دینے کا اس قانون کے ذریعہ اختیار فراہم کیا گیا ہے مگر خانگی اسکولس اس قانون پر عمل نہیں کررہے ہیں لہذا حکومت خانگی اسکولس میں اس قانون کے تحت اپنی طرف سے داخلے کرائے یا اس کا کنٹرول اپنے اختیار میں لے لیں ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے بہ نسبت تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ مجموعی بجٹ میں تعلیم کے لیے 7.5 فیصد فنڈز مختص کئے گئے ہیں مگر ماہرین تعلیم کی جانب سے اس کو بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ پروفیسر کودنڈا رام نے کہا کہ ریاست میں ایسے کئی سرکاری اسکولس ہیں جہاں صرف ایک ہی ٹیچر ہے اور ایسے بھی کئی اسکولس ہیں جہاں طلبہ کی تعداد زیادہ مگر ٹیچرس کی تعداد طلبہ کے مطابق نہیں ہے ۔ بعض مقامات پر طلبہ کم ٹیچرس زیادہ ہیں ۔ لہذا حکومت اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کریں ۔ ریسلائزیشن کرتے ہوئے ایسے مسائل کو فوری دور کرتے ہوئے طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے اقدامات کریں اور ہر کلاس کے لیے ایک ٹیچر کا انتخاب کریں ۔ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ڈیجیٹل تعلیم پر خصوصی توجہ دیں ۔ گرام پنچایتوں کو سرکاری اسکولس کے طلبہ کی تعداد میں اضافہ کرنے کی گنجائش فراہم کیا جائے ۔ خانگی فیس کو کنٹرول کرنے کے لیے نئی قانون سازی کی جائے ۔ ترک تعلیم کرنے والے طلبہ کے بارے میں غور کریں ۔ سرکاری اسکولس میں داخلوں کو بڑھایا جائے ۔ ریاست میں کئی ایسے خانگی اسکولس ہیں جنہیں سرکاری طور پر منظوری حاصل نہیں ہے دوسرے اسکولس سے طلبہ کو امتحانات لکھایا جارہا ہے جس کے خلاف حکومت سخت کارروائی کرے ۔۔ 2