تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکامات، مفاد عامہ کی درخواست پر اہم فیصلہ
حیدرآباد۔/24 جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے سرکاری اسکولوں میں بنیادی انفرااسٹرکچر کی فراہمی پر توجہ مرکوز کی ہے۔ چیف جسٹس اوجل بھویاں اور جسٹس ایس نندا پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے حکومت کو سرکاری اسکولوں میں انفرااسٹرکچر کیبہتری کیلئے 2 ماہ کا وقت دیا ہے۔ عدالت نے حیدرآباد کے ایک طالب علم کی جانب سے داخل کی گئی مفاد عامہ کی درخواست پر عبوری احکامات جاری کئے۔ درخواست میں شکایت کی گئی کہ سرکاری اسکولس بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ اسکولس کی عمارتیں خستہ ہیں اور طلبہ کیلئے ٹائیلٹس کا بھی انتظام نہیں۔ ریاستی حکومت کے وکیل سنجیو کمار نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ایک درخواست زیر دوران ہے جو اسکولوں میں انفرااسٹرکچر کی سہولتوں سے متعلق ہے۔ سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں سے انفرااسٹرکچر کی تفصیلات طلب کی ہیں اور ریاستی حکومت بھی سپریم کورٹ کو جواب داخل کررہی ہے۔چیف جسٹس نے سرکاری وکیل کے استدلال سے اتفاق نہیں کیا اور سوال کیا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کیلئے حکومت نے کیا اقدامات کئے ہیں۔ عدالت کو 23 ستمبر تک بتایا جائے کہ حکومت نے کیا قدم اٹھائے ہیں۔ درخواست گذار نے اخبارات میں شائع شدہ خبروں سے عدالت کو واقف کرایا جس میں سرکاری اسکولوں کی ابتر صورتحال کا ذکر کیا گیا ہے۔ آصف آباد، کتہ گوڑم، سدی پیٹ، سرسلہ، منچریال، نظام آباد اور جنگاؤں جیسے اضلاع میں اسکولوں کی خستہ حالت سے عدالت کو واقف کرایا گیا۔ ڈیویژن بنچ نے آئندہ سماعت 23 ستمبر کو مقرر کی ہے۔ر