پہلے مرحلے میں 100 اسکولوں کا انتخاب، محکمہ تعلیم کی مرکزی حکومت کو تجاویز
حیدرآباد۔ 28 فروری (سیاست نیوز) محکمہ تعلیم نے سرکاری اسکولس میں مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے طلبہ کی صلاحیتوں کو اُبھارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کیلئے اساتذہ کو AI کی تربیت دی جائے گی۔ توقع ہے کہ سماگرا شکشا کے تحت مرکزی حکومت کی جانب سے ہر سال منظور کئے جانے والے فنڈس سے کچھ فنڈس اس ٹریننگ کیلئے استعمال کئے جائیں گے۔ ایکسٹیپ فاؤنڈیشن بنگلور میں قائم کمپنی ہے جو AI کی معیاری تعلیم فراہم کررہی ہے۔ اس کی خدمات سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم اعلیٰ عہدیداروں کا ایک وفد گزشتہ ماہ بنگلور کا دورہ کیا تھا۔ ایکسٹیپ فاؤنڈیشن کی تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد تلنگانہ کے سرکاری اسکولس میں زیرتعلیم طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کیلئے ان کی خدمات سے استفادہ کرنے کیلئے ایک یادداشت مفاہمت پر دستخط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست کے 100 سرکاری اسکولس میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم متعارف کرنے کیلئے محکمہ تعلیم کے عہدیدار منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ اگر کوئی طالب علم انگریزی کی تعلیم حاصل کررہا ہے، اور اس کا تلفظ درست نہیں ہے تو AI Tool صحیح طریقہ سے پڑھنے بذریعہ آڈیو سکھائے گا۔ ہر سال مرکزی وزارت تعلیم انٹیگریٹیڈ ایجوکیشن پراجیکٹ اپروول بورڈ (پی اے بی) کے ذریعہ تلنگانہ کیلئے 1,900 کروڑ روپئے منظور کرتی ہے۔ اس اسکیم کیلئے مرکز اور ریاستوں کا حصہ 60-40 ہوتا ہے۔ اساتذہ کی تربیت کیلئے 9 کروڑ روپئے خصوصی طور پر مختص کئے جاتے ہیں۔ ریاست کی جانب سے ٹیچرس کی تربیت کی جانب سے مرکزی وزارت تعلیم کو تجاویز بھیجی گئی ہیں، منظوری کے بعد اس پر عمل آوری ہوگی۔ 2