ملک کی سب سے بڑی اور سیاسی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ریاست اترپردیش میں اب اسمبلی انتخابات کیلئے محض دو ماہ کا وقت شائد رہ گیا ہے ۔ جیسے جیسے انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے سیاسی سرگرمیوں میں شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے ۔ جلسے اور ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔ سیاسی جماعتیں آپس میں اتحاد اور مفاہمت کا راستہ اختیار کر رہی ہیں۔ مخالفین کو نشانہ بنانے کا عمل بھی تیز ہوگیا ہے ۔ تاہم سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب مرکزی اور اترپردیش حکومت کی جانب سے کئی پراجیکٹس کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ گذشتہ ساڑھے چار سال میں محض اختلافی اور نزاعی مسائل کو ہوا دی گئی اورا ب عوام کو گمراہ کرنے کیلئے کئی پراجیکٹس کے سنگ بنیاد رکھے جا رہے ہیں۔ ایک اور قابل غور بات یہ ہے کہ سرکاری تقاریب کو سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مخالفین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ یہ کام کوئی اور نہیں بلکہ ملک کے وزیر اعظم خود کر رہے ہیں۔ گذشتہ چار دنوں میں دو سرکاری تقاریب سے وزیر اعظم نے خطاب کیا اور دونوں سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ۔ ایک موقع پر وزیر اعظم نے سماجوادی پارٹی کی لال ٹوپی کو ریڈ الرٹ سے تعبیر کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ لوگ محض لال بتی کی گاڑیوں کے خواہشمند ہیں اور عوام کی ترقی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ آج بھی وزیر اعظم نے کہا کہ جب وہ ایک پراجیکٹ کا افتتاح کرنے آ رہے تھے تو یہ انتظار کر رہے تھے کہ کوئی آئیں گے اور کہیں گے کہ اس پراجیکٹ کا سنگ بنیاد ان کی حکومت میں رکھا گیا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ بے شمار پراجیکٹس ایسے تھے جنہیں سابقہ سماجوادی پارٹی نے شروع کیا تھا اور انہیں تکمیل کرتے ہوئے بی جے پی کی حکومت نے اس کا سہرا اپنے سر لینے کی کوشش کی ہے ۔ پراجیکٹس کی تکمیل اور ان کا افتتاح ایک الگ مسئلہ ہے لیکن سرکاری تقاریب سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششیں اب عام ہوگئی ہیں جبکہ ایسا کرنے سے سبھی کو گریز کرنا چاہئے ۔ سیاسی جلسے اور ریلیاں کرتے ہوئے مخالفین کو نشانہ بنانے کا کام کیا جاسکتا ہے اس پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔
جہاں تک سرکاری تقاریب کے بیجا استعمال کا الزام ہے توا س معاملے میں بھی اترپردیش کی آدتیہ ناتھ کی حکومت سارے ریکارڈ توڑتی نظر آ رہی ہے ۔ وزیر اعظم اور چیف منسٹر کی سرکاری تقاریب میں حکومت کی بسوں کو استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ضلع کلکٹرس مکتوب روانہ کرتے ہوئے ڈپو مینیجرس کو بسیں بھیجنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔ عوام پر زور دیا جا رہا ہے کہ ان بسوں کا مفت استعمال کرتے ہوئے تقاریب میں شرکت کی جائے ۔ یہ سارا کچھ یہ بتانے کیلئے کیا جا رہا ہے کہ آج بھی عوام بی جے پی کے ساتھ ہیں۔ اس طرح کے مظاہروں کیلئے کئی طریقے ہوسکتے ہیں اور وہ اختیار کئے جاسکتے ہیں لیکن سرکاری تقاریب کا سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے استعمال اور سرکاری مشنری کے بیجا استعمال سے سبھی کو گریز کرنا چاہئے ۔ خاص طور پر وزیر اعظم اور چیف منسٹر کو اس سلسلہ میں اپنے طرز عمل سے مثال قائم کرنی چاہئے لیکن یہاں الٹ کیا جا رہا ہے ۔ تمام قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے محض سیاسی فائدے اور عوام پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کو ترجیح دی جا رہی ہے ۔ اصول و ضوابط اور اخلاقیات کو پامال کیا جا رہا ہے ۔ تمام قوانین کی دھجیاںاڑائی جا رہی ہیں۔ ان سارے اقدامات سے دوسروں کیلئے غلط نظیر قائم ہو رہی ہے اور یہ نظیر قائم کرنے والے کوئی مقامی قائدین یا پھر کچھ وزراء نہیں ہیں بلکہ خود وزیر اعظم اور چیف منسٹر ہیں۔ انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے ایسی کوششوں کی شائد ہی کسی ریاست میں کوئی اور مثال مل سکتی ہے ۔
اترپردیش کے انتخابات تمام سیاسی جماعتوں کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ بی جے پی کو انداز ہ ہے کہ 2022 میں اترپردیش میں اگر اسے شکست ہوتی ہے تو 2024 میں اس کا دہلی تک کا سفر مشکل ہوسکتا ہے ۔ سماجوادی پارٹی بھی اقتدار پر واپسی کیلئے جامع حکمت عملی تیار کرنے کی کوششوں میں جٹ گئی ہے ۔ کانگریس اپنے طور پر اپنے سیاسی وجود کو منوانے کی کوششیں کر رہی ہے ۔ پرینکا گاندھی راست عوام سے جڑتے ہوئے پارٹی کیلئے سیاسی جگہ بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ ہر جماعت اپنے اپنے طور پر مصروف ہوگئی ہے اور بی جے پی سیاسی مقاصد کیلئے سرکاری تقاریب کا استعمال کر رہی ہے ۔ اس روش کو فوری روکنے کی اور بدلنے کی ضرورت ہے ۔ خاص طور پر وزیر اعظم اور چیف منسٹر کو اپنے عہدوں کا وقار برقرار رکھتے ہوئے اس طرح کے ہتھکنڈوں سے گریز کرنے اور دوسروں کیلئے مثال قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔
سوشیل میڈیا پر کنٹرول کے اشارے
مرکزی حکومت ملک میں تقریبا تمام چینلوں اور دیگر ذرائع ابلاغ پر راست یا بالواسطہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اب سوشیل میڈیا پر بھی پابندیاں عائد کرنے یا اس پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے ۔ وقتا فوقتا یہ اشارے دئے جانے لگے ہیں کہ سوشیل میڈیا پر پوری طرح سے حکومت ہی کنٹرول کرسکتی ہے ۔ یہ در اصل سوشیل میڈیا کی طاقت سے خوف کے اشارے ہیں۔ اس طرح سے غیر جانبدارانہ اور حقیقت پسندانہ انداز میں مسائل کو اجاگر کرنے ‘ حکومت کی ناکامیوں اور اس کی خامیوں کو عوام کے سامنے لانے والے عناصر کو قابو میں کرنے کی کوشش ہے ۔ اس کے علاوہ سوشیل میڈیا کے معاملے میں بھی حکومت کا طرز عمل دوہرے معیارات والا ہے ۔ جو سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس حکومت کی خامیوں و غیرہ کو منظر عام پر لاتے ہیں اور جھوٹ کا پردہ فاش کرتے ہیں ان پر لگام کسنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی ۔ سوشیل میڈیا اداروں کو بھی مقدمات وغیرہ سے خوفزدہ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا اور کچھ تنخواہ پانے والے سوشیل میڈیا عناصر کے ذریعہ نفرت اور جھوٹ پھیلانے والوں کو کھلی چھوٹ دی جاتی ہے ۔ اس صورتحال سے واضح ہوجاتا ہے کہ حکومت سوشیل میڈیا کے بیجا استعمال پر نہیں بلکہ اپنے مخالف رائے رکھنے والوں کو نشانہ بنانا چاہتی ہے ۔ یہ در اصل حکومت کا خوف ہی ہے کہ وہ اقتدار اور حکومت کا بیجا استعمال کرتے ہوئے ہر مخالف آواز کو دبانے اور کچلنے کیلئے تیار ہونے لگی ہے۔ آج سوشیل میڈیا کا جس طرح سے بی جے پی کی ہمنوا تنظیمیں استعمال کرتے ہوئے سماج میں منافرت پھیلا رہی ہیں ان پر کنٹرول کرنے اور لگام کسنے کی ضرورت ہے ۔ جو لوگ جمہوری اور دستوری حقوق کی بات کرتے ہوئے حکومت کو آئینہ دکھانا چاہتے ہیں ان کو نشانہ بنانے سے حکومت کو گریز کرنا چاہئے ۔
