مدھیہ پردیش کی شیوراج حکومت کی خرابیاں آشکار، خاطی ملازمین برطرف
اندور : مدھیہ پردیش کے سرکاری اسپتالوں میں اندور کا ایم وائی اسپتال سب سے بڑا مانا جاتا ہے۔ اس اسپتال کے مردہ گھر میں لڑکیوں کے ساتھ رنگ رلیاں منانے کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد انتظامیہ نے دو ملازمین کی سروس ختم کر دی ہے۔ ایک کو معطل کیا گیا ہے اور ڈاکٹر کو وجہ بتاوؤ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ شیوراج حکومت میں سرکاری اسپتال کے مردہ خانہ میں ہوئی اس حرکت کے بارے میں خبریں عام ہونے پر سبھی حیران ہیں۔قابل ذکر ہے کہ ایم وائی اسپتال کے مردہ گھر کی تصویریں ایک اخبار میں شائع ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں جس میں کچھ ملازمین لڑکیوں کے ساتھ نظر آ رہے تھے۔ اس معاملے میں ڈویڑنل کمشنر ڈاکٹر پون کمار شرما نے کارروائی کی ہے۔ ایم جی ایم میڈیکل کالج اندور کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ اور ڈویڑنل کمشنر ڈاکٹر پون کمار شرما نے ایم وائی اسپتال میں مردہ گھر میں کانٹریکٹ پر کام کرنے والے ایچ ایل ایل ہائٹس (جو کہ حکومت ہند کی وزارت برائے صحت و خاندانی بہبود کے ماتحت ادارہ ہے) کے دو ملازمین کی خدمات فوری اثر سے ختم کر دی۔ اس کے علاوہ ایچ ایل ایل ہائٹس کو ضروری معاشی سزا بھی دینے کا حکم دیا ہے۔میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر سنجے دیکشت نے اس سلسلے میں بتایا کہ مردہ گھر میں کام کرنے والے ملازم وارڈ بوائے مکیش انجانا کو فوری اثر سے معطل کر دیا گیا ہے اور مردہ خانہ محکمہ کے انچارج افسر ڈاکٹر بجرنگ سنگھ کو وجہ بتاو? نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
