دہلی فساد کے دوران گاڑیوں کو نشانہ بنانے میں انٹر نیٹ اور اپلی کیشن سے تفصیلات کا حصول
جلتی گاڑیوں اور مالکین کی تفصیلات کو سوشیل میڈیا پر پیش کیا گیا ، منظم انداز کے فساد کا ثبوت
حیدرآباد۔27فروری(سیاست نیوز) فساد کے دوران انٹرنیٹ اور ایپلیکیشن پر موجود تفصیلات کے حصول کے ذریعہ گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران جو گاڑیاں جلائی گئی ہیں اور جن گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے ان کی تفصیلات دہلی کے موٹر وہیکل رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر موجود مالکین کی تفصیلات کے حصول کے ذریعہ انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گاڑیوں کو جلانے والوں نے نہ صرف گاڑیاں جلائی ہیں بلکہ ان جلتی گاڑیوں کی تصاویر کے ساتھ ان کے مالکین کی تفصیلات بھی سوشل میڈیا پر ڈالی گئی ہیں جس سے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ سرکاری سطح پر حاصل کی جانے والی تفصیلات بھی محفوظ نہیں ہیں اور جن لوگوں کی رسائی ان تفصیلات تک ہونے لگی ہے وہ لوگ گاڑیوں کے مالکین کی تفصیلات حاصل کرنے کے بعد انہیں نقصان پہنچانے کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ اب تک ملک کے مختلف مقامات پر ہونے والے فسادات کے دوران بازاروں میں موجود تجارتی اداروں کے سائن بورڈ دیکھ کر انہیں نقصان پہنچانے کی شکایات منظر عام پر آتی تھیں اور دہلی میں ہونے والے فساد کے دوران بھی بازار میں چنندہ دکانوں کو نشانہ بنانے کے کئی ایک واقعات منظر عام پر آئے ہیں لیکن گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے لئے سرکاری ڈاٹا تک رسائی حاصل کرنے اور اس کا استعمال کئے جانے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ منظم انداز میں یہ فساد کیا گیا ہے جس میں گاڑیوں کے مالکین کی تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ان کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ دہلی میں ہونے والے فسادات کی جو تصاویر سوشل میڈیا تک پہنچ رہی ہیں ان میں ایسی تصویر بھی شامل ہے جس میں جلتی ہوئی کار کے آگے اس کے نمبر کے ساتھ مالک کی مکمل تفصیلات بھی درج ہیں جو کہ ہندستانی شہری کی شخصی رازداری کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔انفارمیشن ٹکنالوجی و ڈاٹا ماہر مسٹر سرینواس کوڈالی نے اس تصویر کو اپنے ٹوئیٹر پر شئیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ ابتداء سے ہی سرکاری طور پر ڈاٹا وصول کئے جانے کے مخالف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ ڈاٹا کی فراہمی کے مخالف ہیں کیونکہ کسی کا بھی ڈاٹا سرکاری طور پر محفوظ رکھا جانا ناگزیر ہے اور اس ڈاٹا کا غلط استعمال کیا جانا کوئی مشکل کام نہیں ہے اور دہلی فسادات کے دوران گاڑیوں کو آگ لگانے کے لئے محکمہ ٹرانسپورٹ کے ڈاٹا کا ہی غلط استعمال کرتے ہوئے گاڑیوں کی نشاندہی کی گئی اور ان گاڑیوں کو ہی نشانہ بنایا گیا جنہیں فسادی نشانہ بنانا چاہ رہے تھے۔