عنقریب نئی تعلیمی پالیسی، بجٹ میں 15 فیصد مختص کرنے کا منصوبہ، تعلیمی کٹس اور ناشتہ کی فراہمی
حیدرآباد 12 مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ریاست میں تعلیمی شعبہ کو مستحکم بنانے کے لئے جامع حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ اِس منصوبہ کے تحت نئی تعلیمی پالیسی، ہر سال تعلیمی بجٹ میں اضافہ، سرکاری اسکولوں میں نرسری تا بارہویں جماعت تک تعلیم اور تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں طلبہ کے لئے ناشتہ کی فراہمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ پرجا پالنا پرگتی پرانالیکا پروگرام کے تحت چیف منسٹر نے لال بہادر اسٹیڈیم میں ہفتہ تعلیم کا آغاز کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت نے ریاستی بجٹ کا 8 فیصد تعلیم کے لئے مختص کیا ہے۔ آنے والے برسوں میں اِسے مرحلہ وار 15 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ تعلیم پر ہونے والا خرچ مستقبل کی نسلوں کے لئے ایک مثبت سرمایہ کاری ہے۔ حکومت کا مقصد تلنگانہ کو تعلیم کے شعبہ میں ملک کی نمبر 1 ریاست بنانا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ سرکاری اسکولوں کو مزید مضبوط بناکر خانگی تعلیمی اداروں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔ ریاست کے 27 ہزار سرکاری اسکولوں میں 19 لاکھ طلبہ زیرتعلیم ہیں جبکہ 12 ہزار خانگی اسکولوں میں طلبہ کی تعداد 38 لاکھ ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ حکومت جلد ہی نئی تعلیمی پالیسی متعارف کرے گی جو ملک کے لئے مثالی ثابت ہوگی۔ دسویں جماعت کے بعد بڑھتے ہوئے ڈراپ آؤٹس کو روکنے کے لئے جاریہ تعلیمی سال سے سرکاری اسکولوں میں نرسری تا بارہویں جماعت تک تعلیم فراہم کی جائے گی۔ غریب خاندانوں کے طلبہ کے لئے تغذیہ بخش خوراک ناشتہ میں سربراہ کی جائے گی جو دودھ اور راگی پر مشتمل رہے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ ناشتہ کی اسکیم پائلیٹ پراجکٹ کے طور پر شروع ہوچکی ہے۔ چیف منسٹر نے محکمہ تعلیم کے لئے مستقل وزیر نہ ہونے پر اپوزیشن کی تنقیدوں کو مسترد کردیا اور کہاکہ جان بوجھ کر محکمہ تعلیم کا قلمدان اپنے پاس رکھا ہوں تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کی جاسکے اور اُنھیں ذمہ دار شہری بنایا جائے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ حکومت نے محض 60 دنوں میں 11 ہزار ٹیچرس کے تقررات کئے ہیں۔ 22 ہزار ٹیچرس کو ترقی دی گئی اور 36 ہزار ٹیچرس کے شفافیت کے ساتھ تبادلے کئے گئے۔ ریاست میں جملہ دیڑھ لاکھ ٹیچرس خدمات انجام دے رہے ہیں اور ہر 17 طلبہ کے لئے ایک ٹیچر موجود ہے۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ 25 سرکاری ٹیچرس کو مطالعاتی دورہ پر روانہ کیا گیا ہے اور مستقبل میں بہترین کارکردگی رکھنے والے 500 ٹیچرس کو بیرون ملک بھیجا جائے گا۔ یوم تاسیس تلنگانہ کے موقع پر اساتذہ کو تہنیت پیش کی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ تعلیمی سال کے پہلے دن طلبہ کو یونیفارم کا ایک جوڑا دیا جائے گا جبکہ مہینے کے آخر میں دوسرا جوڑا فراہم کیا جائے گا۔ ایجوکیشن کٹس کی تقسیم کے لئے حکومت نے ایک ہزار کروڑ مختص کئے ہیں۔ اُنھوں نے عہدیداروں کو انتباہ دیا کہ اگر ناقص معیار کی کٹس فراہم کئے گئے تو متعلقہ کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اُنھیں ہمیشہ کے لئے بلیک لسٹ کردیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے تساہل کے ذمہ داروں کو جیل بھیجنے کی دھمکی دی۔ اُنھوں کہاکہ آؤٹر رنگ روڈ کے اندرونی حصہ میں تعلیمی ادروں میں انفراسٹرکچر سہولتوں کے لئے 1700 کروڑ کا منصوبہ ہے۔ یونیورسٹیز میں عصری سہولتوں کی فراہمی پر سینکڑوں کروڑ خرچ کئے جارہے ہیں۔ 100 اسمبلی حلقوں میں 20 ہزار کروڑ کی لاگت سے 100 ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ اسکول قائم کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ یونیورسٹیز اور تعلیمی شعبہ کو نظرانداز کرنے کی صورت میں مکمل ایجوکیشن سسٹم متاثر ہوگا۔V/1