حیدرآباد ۔11 ۔ نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر یوم قومی تعلیم اور یوم اقلیتی بہبود کے انعقاد میں ناکامی پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم پیدائش پر ہر سال یوم اقلیتی بہبود کے طور پر منانے کا سرکاری سطح پر فیصلہ کیا گیا تھا لیکن کے سی آر حکومت نے مولانا آزاد کو فراموش کردیا ہے ۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ کسی بھی سرکاری محکمہ حتیٰ کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے کوئی تقریب منعقد نہیں کی گئی۔ پھر ایک مرتبہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے پاس مجاہدین آزادی اور قومی قائدین کا کوئی احترام نہیں ہے ۔ خاص طور پر مسلم قومی قائدین کو کے سی آر نے فراموش کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری سطح پر تقاریب سے گریز کرتے ہوئے حکومت نے مسلم دشمنی کا ثبوت دیا ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر ہر معمولی بات پر بیانات جاری کرتے ہیں لیکن مولانا آزاد یوم پیدائش تقاریب پر چیف منسٹر کی جانب سے کوئی پیام جاری نہیں کیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں ہر سال 11 نومبر کو بڑے پیمانہ پر تقاریب کا اہتمام کیا جاتا رہا ۔ 11 ستمبر 208 ء کو مرکز کی یو پی اے حکومت نے ہر سال 11 نومبر کو یوم قومی تعلیم کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ریاستی سطح پر محکمہ اقلیتی بہبود نے انتہائی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر حکومت نے تعلیم کے شعبہ کو تباہ کردیا ہے۔ عوام سے کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ سرکاری اداروں کو تباہ کر تے ہوئے خانگی شعبہ کو اہمیت دی جارہی ہے۔ تعلیم کے شعبہ پر خرچ کے معاملہ میں تلنگانہ ملک کی 29 ریاستوں میں سب سے پیچھے ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایہ جات کے طور پر 3270 کروڑ کی عدم اجرائی کے ذریعہ ٹی آر ایس حکومت 12 لاکھ طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہی ہے۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں 850 جونیئر کالجس ، 150 پوسٹ گریجویٹ کالجس اور سینکڑوں انجنیئرنگ اور فارمیسی کالجس بند ہوچکے ہیں۔ 30 فیصد طلبہ تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ ر