سیلری اکاؤنٹ رکھنے والے اہل، محکمہ فینانس کی مختلف بینکوں سے بات چیت
حیدرآباد۔ 24 ستمبر (سیاست نیوز) ریاستی حکومت سرکاری ملازمین کے لئے ریکارڈ 1.25 تا 1.50 کروڑ روپے (حادثاتی) ایکسیڈنٹ انشورنس فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کررہی ہے۔ محکمہ فینانس کے عہدیدار مختلف بینکوں کے انتظامیہ سے تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ بینکوں میں تنخواہوں کے کھاتے (اکاؤنٹ) رکھنے والے ملازمین کو ملک میں حادثاتی اور ہیلت انشورنس پر عمل کرنے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔ سنگارینی کے ملازمین اور ورکرس کی کسی حادثے میں موت واقع ہو جاتی ہے تو مہلوکین کے ورثہ کو ایک کروڑ روپے انشورنس فراہم کرنے کا انتظامیہ نے مختلف بینکوں سے معاہدہ کیا ہے۔ سیلری اکاؤنٹ رکھنے والے ہر ورکر کو ایک کروڑ روپے کی ایکسیڈنٹ انشورنس اسکیم نافذ کررہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) کے بشمول دیگر بینکوں کی جانب سے اس پر عمل کیا جارہا ہے۔ سنگارینی میں عمل کئے جانے والے اس اسکیم کی کامیابی کو دیکھ کر مرکزی محکمہ کوئلہ نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی کوئلہ کمپنی کول انڈیا میں بھی اس پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ سیلری اکاؤنٹ رکھنے والے مرکزی حکومت کے ملازمین کے لئے بینکوں کی جانب سے مختلف سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ مرکزی حکومت کے ملازمین کو بینکوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی اہم سہولتوں میں اگر SBI میں سیلری اکاؤنٹ ہے تو کسی حادثے میں موت واقع ہو جانے پر متاثرہ خاندان کو بینک کی جانب سے ایک کروڑ روپے کا انشورنس ادا کیا جارہا ہے۔ ہوائی جہاز کے حادثے میں موت واقع ہو جانے پر 1.60 کروڑ روپے، اگر RUPAY ڈبیٹ کارڈ ہونے پر مزید ایک کروڑ ادا کئے جارہے ہیں۔ مستقل طور پر معذور ہو جانے کی صورت میں ایک کروڑ، قدرتی موت پر 10 لاکھ روپے ادا کیا جارہا ہے۔ ماہانہ 2,495 روپے پریمیم ادا کرنے پر زیادہ سے زیادہ 30 لاکھ روپے تک ہیلت انشورنس کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ ان سب کے علاوہ سال میں ایک مرتبہ ہیلت چک اپ مفت کیا جائے گا۔ چیف سکریٹری کے راما کرشنا راؤ نے بتایا کہ ریاست کے سرکاری ملازمین کو بہتر سے بہتر ایکسیڈنٹ انشورنس اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے کے لئے بینکوں سے بات چیت کی جارہی ہے۔ محکمہ فینانس کے پرنسپل سکریٹری سندیپ کمار سلطانیہ نے کہا کہ حکومت سرکاری ملازمین کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے عہد کی پابند ہے۔ چند بینکس ملازمین کو بہت سی سہولیات اور رعایتیں دینے کے لئے آگے آئے ہیں مگر ہماری جانب سے زیادہ سے زیادہ انشورنس فراہم کرنے کے لئے راضی کرنے کے لئے بات چیت کی جارہی ہے۔ 2